انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 31

انوار العلوم جلد ۷ ٣١ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) تو ایسے مواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہادری اور جرات پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان مقابلہ کر سکے اور پھر نہ کرے ورنہ دشمن سمجھتا ہے کہ کمزور ہونے کی وجہ سے ڈر گیا اور بھاگ گیا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ دوست ذرا زیادہ - جرات اور دلیری سے کام لے کر اور قربانی کر کے بھرتی ہونے کی کوشش کریں گے۔خصوصاً احمد یہ کمپنیوں میں، کیونکہ ان میں جوانوں کی ضرورت ہے۔گو اس وقت تک ہم ۱۵ ہزار کے قریب بھرتی دے چکے ہیں اور پنجاب میں سرکاری رپورٹ کی رو سے ہماری تعدادہ ۷ ہزار ہے اور ہم اپنی جماعت کی تعداد پنجاب میں دو اڑھائی لاکھ کے قریب سمجھتے ہیں اگر حکومت کی بتائی ہوئی تعداد ۷ ہزار مانی جائے تو اس لحاظ سے اگر سارا ہندوستان ۸ کروڑ بھرتی دے تب ہمارے ذمہ ۱۵ ہزار کی بھرتی آتی ہے لیکن اگر ہماری تعداد اڑھائی لاکھ تسلیم کی جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں ہندوستان کو ۲ کروڑ ۴۰ لاکھ کی بھرتی دینی چاہئے۔ہندوستان کی ساری بھرتی ۱۵ لاکھ ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے ہمارا بھرتی دینے کا جتنا حق بنتا ہے اُس سے پندرہ گنا زیادہ ہم دے چکے ہیں اور گورنمنٹ کی مردم شماری کی رپورٹ کو مدنظر رکھیں تو چار سو گنے زیادہ دے چکے ہیں۔مگر یہ ہمارے لئے خوشی کی بات نہیں ہے خوشی اُس وقت ہو سکتی ہے جب ہر احمدی نو جوان اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اُسے ادا کر نے کی کوشش کرے۔اگر کسی وقت ملک میں فساد ہو جائے اور کسی طرف سے دشمن آ جائے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری بیویوں اور بیٹیوں کی عزت برباد ہو جائے گی اور نہ معلوم کیا کیا مصائب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے لیکن اگر لوگوں کو یہ یقین ہو کہ کسی وقت فساد ہونے پر یا دشمن کے آ جانے پر ہمارے ہمسائے مقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے جو ہماری حفاظت کریں گے تو وہ اطمینان کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے فوجی ٹرینگ کی ضرورت ہے پس جو بھی فوج میں بھرتی ہو سکتا ہے اسے ضرور بھرتی ہو جانا چاہئے۔انگریزی ترجمۃ القرآن اب میں انگریزی ترجمۃ القرآن کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کی اشاعت کے متعلق مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء میں فیصلہ کیا گیا تھا اور اب ۱۹۴۳ء بھی ختم ہو رہا ہے مگر ترجمہ شائع نہیں ہوا۔وجہ یہ ہوئی کہ وہ