انوارالعلوم (جلد 17) — Page 585
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۸۵ الموعود چھ مہینے یا سال نہیں میں آپ کو ۱۸ مہینے کی مہلت دیتا ہوں آپ اس عرصہ کے اندر یہ کام کر کے دکھا دیں۔لارڈ ولنگڈن کہنے لگے وزیر ہند نے تو مجھے ۱۸ مہینے کی مہلت دی تھی اور آپ مجھے کچھ بھی مہلت نہیں دیتے بلکہ چاہتے ہیں کہ فوری طور پر میں یہ کام کر دوں۔میں نے کہا اگر یہی بات ہے تو پھر جھگڑے کی کوئی بات ہی نہیں۔انہوں نے تو ۱۸ مہینے کی آپ کو مہلت دی ہے میں آپ کو ۱۸ سال کی مہلت دینے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ آپ مجھے یقین دلائیں کہ کشمیر کے مسلمانوں کی حالت سدھر جائے گی۔انہوں نے کہا پانچ چھ ماہ تک مجھے حالات دیکھنے دیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس عرصہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں کروں گا اور کشمیر کے مسلمانوں کو اُن کے حقوق دلانے کی پوری پوری کوشش کروں گا۔چنانچہ اس کے بعد بڑے بڑے واقعات ہوئے جن کو تفصیل کے ساتھ سُنایا نہیں جا سکتا۔بہر حال میں نے کوشش جاری رکھی یہاں تک کہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسی طاقت عطا فرما دی کہ کشمیر کی گورنمنٹ سخت گھبرا گئی اور اُس نے دو دفعہ مجھے پیغام بھیجا کہ آپ جموں آئیں اور مہاراجہ صاحب سے مل کر فیصلہ کر لیں۔آپس کی گفتگو کے بعد جن حقوق کے متعلق اتفاق ہو گا وہ کشمیر کے مسلمانوں کو دے دیئے جائیں گے۔میں نے کہا میرے فیصلے کا کوئی سوال نہیں۔کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کا فیصلہ ہونا ہے اور یہ فیصلہ کشمیر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔میں یہ نہیں چاہتا کہ میں آؤں اور آپ سے باتیں کر کے کچھ فیصلہ کر لوں بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کے حقوق کا سوال ہے اُن کے نمائندوں کو بات کرنے کا موقع دیا جائے۔آخر وہی وائسرائے جنہوں نے کہا تھا کہ میں ان معاملات میں دخل نہیں دے سکتا جب بار بار اُن کو واقعات بتائے گئے تو انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ کشمیر میں بہت سی خرابیاں ہیں جن کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔چنانچہ گورنمنٹ آف انڈیا نے بھی کشمیر گورنمنٹ پر زور دینا شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سر ہری کشن کول جو وزیر اعظم تھے اس بات پر مجبور ہوئے کہ میری طرف توجہ کریں اور آخر انہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ آپ اپنے آدمی بھجوا دیں جن سے بات کر کے وہ حقوق جو مسلمانوں کو دیے جا سکتے ہوں اُن کو دے دیئے جائیں۔