انوارالعلوم (جلد 17) — Page 573
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۷۳ الموعود کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کر سکتا۔پس آب بیلجیئم کی قانونی گورنمنٹ ہم ہیں نہ کہ لیوپولڈ۔اس لئے بیلجیئم کے لوگوں کو لیوپولڈ کی بات نہیں ماننی چاہئے بلکہ ہماری بات ماننی چاہئے۔تم غور کرو یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھایا۔تین دن پہلے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ خبر دی اور منگل کی رات کو بغیر اس کے کہ کسی اور کو علم ہو بیلجیئم کے بادشاہ نے اپنے آپ کو جرمنوں کے سپر د کر دیا اور وہ معزول ہو گیا۔یہ وہ خبر تھی جو ہزاروں آدمیوں کی مجلس میں میں نے قبل از وقت سُنا دی تھی۔لیبیا کے محاذ پر انگریزی فوجیوں کی کامیابی کی خبر (۱۵) پھر تمبر ۱۹۴۰ء کی بات ہے۔میں چندا دنوں کے لئے شملہ گیا اور وہاں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے مکان پر ٹھہرا۔غالبا ۲۰ دسمبر کے دو چار دن بعد کی کوئی تاریخ تھی کہ میں نے رات کو رویا میں دیکھا کہ میں مصر میں ہوں اور لیبیا کے محاذ پر دشمن کی فوجوں اور انگریزی فوجوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔اُس وقت لڑائی کا میدان مجھے اس شکل میں دکھایا گیا کہ گویا انگریزی علاقہ ایک ہال کی طرح ہے۔اُس ہال میں ایک طرف سے سیڑھیاں اترتی ہیں۔چوڑی چوڑی سیڑھیاں کچھ دُور تک سیدھی جا کر پھر ایک طرف کو مڑ جاتی ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس ہال میں آنے کا راستہ ہے۔میں نے دیکھا کہ انگریزی فوج دشمن کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے پیچھے بہتی ہے۔وہ بڑی بہادری سے لڑتی ہے مگر دشمن کا زور اتنا زیادہ ہے کہ وہ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتی رائفلیں دونوں فریق کے ہاتھ میں ہیں اور دونوں ایک دوسرے پچBAYONET CHARG کرتی ہیں۔میں نے دیکھا کہ پہلے تو انگریزی فوجیں سیڑھیوں کے دوسرے سرے پر دشمن سے لڑ رہی ہیں مگر آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر سے اترنا شروع ہو گئیں۔دشمن اس کے پیچھے پیچھے آتا جاتا ہے یہاں تک کہ سیڑھیاں ختم ہوگئیں اور انگریزی فوجیں ہال میں اُتر آئیں دشمن کی فوج بھی اُن کے پیچھے اُترنا شروع ہوگئی۔اس نظارہ کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ انگریزی فوج کمزور حالت میں ہے اور میں اپنے دل میں جوش محسوس کرتا ہوں کہ اُن کی مددکروں۔اس خیال کے آنے پر میں