انوارالعلوم (جلد 17) — Page 569
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۶۹ الموعود میں سنایا وائسرائے نے یا کسی اور نے ایک دفعہ پوچھا کہ ظفر اللہ خاں ! تم اس جنگ کا کیا نتیجہ سمجھتے ہو؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے امام نے خواب دیکھا ہوا ہے کہ چھ ماہ کے بعد یہ حالات بدل جائیں گے اس لئے میں تو یقین رکھتا ہوں کہ چھ ماہ تک یہ خطرہ کی حالت دُور ہو جائے گی۔چنانچہ عین چھ ماہ کے بعد ۱۵ دسمبر کو اٹلی کو پہلی شکست ہوئی اور انگریزوں کی حالت میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو گئی اور ۱۹ / دسمبر ۱۹۴۰ء کو پرائم منسٹر نے ہاؤس آف کامنز میں اعلان کیا کہ اب ہم پہلے سے محفوظ ہو گئے ہیں اور ہم نے ایک ایسی حالت سے ترقی کی ہے جبکہ ہمارے بہترین دوست بھی اِس بات سے مایوس ہو چکے تھے کہ ہم مقابلہ جاری رکھ سکیں گے۔‘۴۰ یه دو دھاری تلوار تھی جو مجھے عطا کی گئی کہ ایک رڈیا کے ذریعہ دوخبر میں دی گئیں۔ایک خبر تو ایسی دی گئی کہ جس کی دنیا کی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی اور دوسری خبر یہ دی گئی کہ چھ ماہ کے بعد یہ خطرہ کی حالت جاتی رہے گی۔چنانچہ ٹھیک چھ ماہ کے بعد حالات میں تبدیلی رونما ہوئی اور مسٹر الیگزینڈر جو انگریزوں کے وزیر بحری تھے ، انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جون جولائی میں ( جب حکومت برطانیہ نے حکومت فرانس کو تا ر دیا تھا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کر دی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے الحاق ہو جانا چاہئے ) ہر وہ شخص جو جنگی فنون سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ ہم پھر امن میں آجائیں گے۔اگر کوئی ایسی بات کہتا تو یا تو میں اُسے سیاست سے بالکل نابلد اور نا واقف کہتا اور یا میں اُسے احمق اور پاگل خیال کرتا۔گویا انگریزوں کی حالت اتنی نازک اور خراب تھی کہ اُن کے نزدیک اس قسم کا خیال کرنا بھی کہ اُن کی حالت چھ ماہ تک بدل جائے گی ، احمقانہ اور مجنونانہ خیال تھا۔مگر جبکہ حکومت کے بڑے بڑے مد بر یہ کہ رہے تھے کہ انگریز خطرہ میں گھر گئے ہیں، اب اُن کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ کینیڈا چلے جائیں اور مقابلہ جاری رکھیں ، خدا نے مجھے خبر دی کہ ۱۵ دسمبر تک یہ حالات بدل جائیں گے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ مین ۱۵ دسمبر کو حالات نے یکدم پلٹا کھایا اور انگریزوں کے قدم مضبوط ہو گئے۔