انوارالعلوم (جلد 17) — Page vi
ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام 66 پہنچانا ہے۔اعلان پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے ہونے والے جلسوں میں حضرت مصلح موعود کے خطابات اور پھر جلسہ سالانہ ۱۹۴۴ ء کے موقع پر الموعود کے نام سے موسوم رُوح پرور نقار یر جس میں پیشگوئی مصلح موعود کا تفصیل سے تذکرہ حضور نے فرمایا تھا یہ سب رُوح پرور اور ایمان افروز خطابات و تقاریر انوار العلوم کی جلد ھذا میں شامل اشاعت ہیں۔۱۹۴۴ ء کا سال جہاں پیشگوئی مصلح موعود کے اعلان کے حوالہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے وہاں اس سال جماعت میں دو قیمتی اور بابرکت وجودوں کی وفات بھی ہوئی۔پہلے حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ اُمم طاہر کی وفات ہوئی۔آپ کی وفات پر حضرت مصلح موعود نے آپ کا ذکر خیر ” میری مریم“ کے عنوان سے ایک درد انگیز اور پُر شوکت مضمون تحریر کر کے فرمایا۔یہ مضمون بھی انوار العلوم کی اس جلد کی زینت ہے۔دوسرے با برکت وجود حضرت میر محمد اسحاق صاحب تھے جن کی وفات ایک نا قابل تلافی نقصان تھا۔۱۷ / مارچ ۱۹۴۴ء کو حضرت میر صاحب کی وفات ہوئی۔اُسی دن حضرت مصلح موعود نے احباب جماعت کے سامنے ایک رقت آمیز تقریر فرمائی جس میں حضرت میر صاحب کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ فرمایا اور احباب کو حضرت میر صاحب کی طرح علمی و عملی میدان میں کمال حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور کی یہ تقریر بھی جلد ھذا میں شامل ہے۔مندرجہ بالا تقاریر و تحریرات کے علاوہ جلسہ ہائے سالانہ ۱۹۴۳ ء اور ۱۹۴۴ء سے حضور کے خطابات اور بعض اہم مواقع کی تقاریر اور مضامین بھی جلد ۷ا کی زینت ہیں۔الغرض انوار العلوم جلد ۱۷ ہمیں تاریخ احمدیت میں رونما ہونے والے کئی عظیم الشان واقعات سے آگاہی بھی دیتی اور ان مواقع پر حضرت مصلح موعود کے ولولہ انگیز اور رُوح پرور خطابات کے ذریعہ ہماری علمی و روحانی آبیاری کے سامان بھی کرتی ہے۔یقیناً