انوارالعلوم (جلد 17) — Page 558
انوار العلوم جلد کا ۵۵۸ الموعود میرے پاس ایک دفعہ اوکاڑہ کے ایک تاجر آئے اور کفر و اسلام اور نبوت وغیرہ مسائل پر بڑی بحث کرتے رہے۔وہ حاجی تھے اور بڑی عمر کے تھے جب وہ بہت بحث کر چکے تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ مرزا صاحب کو تو مانتے ہیں صرف آپ کو نبوت یا کفر و اسلام وغیرہ چند مسائل میں ابھی اطمینان نہیں۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانتے ہیں تو کم از کم پہلا قدم تو اُٹھائیے اور اگر میری بیعت نہیں کر سکتے تو لا ہور میں جا کر مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لیجئے۔وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے۔میری یہ بات سُن کر وہ بے تاب ہو کر کہنے لگے میں بیعت کروں گا تو آپ کی ہی کروں گا آدھے راستے میں تو میں نہیں ٹھہر سکتا۔گویا وہ جو اُن کے ہم خیال ہیں وہ بھی اُن کی بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں اور اُن کے دل میں بھی یہی بات پائی جاتی ہے کہ اگر ہم نے بیعت کی تو قادیان میں ہی جا کر کریں گے۔قلوب پر یہ عظیم الشان تصرف جو نظر آ رہا ہے، انہیں سوچنا چاہئے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔لوگوں کو اشتعال وہ دلاتے ہیں ، الزام وہ لگاتے ہیں ، جوش وہ دلاتے ہیں مگر اس کے با وجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر میری طرف لا رہا ہے اور وہ خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔کوئی اِکا دُکا اُن کی طرف چلا جائے تو علیحدہ بات ہے۔گویا ہماری اور اُن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جال والا اپنے جال کے ذریعہ بہت سی مچھلیاں پکڑ کر لے آتا ہے اور دوسرا شخص پہر کی پھینکی ہوئی مُردہ مچھلی کو اُٹھا کر اپنے گھروں میں لے جاتا ہے۔(1) پھر چھٹی پیشگوئی جو سیٹھ عبد اللہ بھائی کے متعلق ایک عجیب خدا تعالیٰ نے مجھ سے کروائی وہ بھی اپنی ذات میں ایک زندہ ثبوت اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے اخبار غیبیہ سے اطلاع دیتا اور اُن کو نہایت ہی شان کے ساتھ پورا کرتا ہے۔۱۹۱۵ ء یا ۱۹۱۶ ء کی بات ہے کہ ہمارے مبلغ حیدر آباد دکن گئے اور وہاں سے انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ ایک خوجہ قوم کے تاجر ہیں جن کا نام عبداللہ بھائی ہے۔ہم انہیں تبلیغ کرنے گئے تھے انہوں نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں جو آپ کی خدمت میں بھیجے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر اُن کی تسلی ہو گئی تو وہ احمدی ہو جا ئیں گے۔جب مجھے یہ خط پہنچا میں نے