انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 551

انوار العلوم جلد کا ۵۵۱ الموعود اللہ تعالیٰ نے اُس کی کوئی بات نہ چلنے دی اور اُسے خائب و خاسر کر دیا۔احرار کی شکست (۳) اسی طرح احرار میرے مقابل میں اُٹھے۔احرار کو بعض ریاستوں کی بھی تائید حاصل تھی۔کیونکہ کشمیر کمیٹی کی صدارت جو میرے سپرد کی گئی تھی اس کی وجہ سے کئی ریاستوں کو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ اس زور کو تو ڑنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ یہ کسی اور ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں یا پھر کشمیر کے خلاف ہی اپنی جد و جہد کو شروع کر دیں۔چنانچہ احرار نے ۱۹۳۴ء میں شورش شروع کی اور اس قدر مخالفت کی کہ تمام ہندوستان کو ہماری جماعت کے خلاف بھڑکا دیا۔اُس وقت مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر میں نے اپنے ایک خطبہ میں اعلان کیا کہ تم احرار کے فتنہ سے مت گھبراؤ۔” خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا کیونکہ خدا نے جس راستہ پر مجھے کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے۔جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کے اختیار کرنے کی اُس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و با مراد کرنے والے ہیں۔اس کے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں اُن کی شکست کو اُن کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں ، اتنی ہی نمایاں مجھے اُن کی موت دکھائی دیتی ہے۔۳۸ چنانچہ ابھی دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ شہید گنج کا واقعہ ہو گیا اور یا تو وہ ساری دنیا میں ہمارے خلاف شور مچاتے تھے اور لوگ انہیں بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یا پھر لاہور میں جو اُن کا مرکز تھا وہ ایسے ذلیل اور رُسوا ہوئے کہ دو سال تک لوگوں نے اُن کو جلسہ نہ کرنے دیا۔بیشک ہماری جماعت کی مخالفت ہوتی چلی آئی ہے اور اب بھی ہے۔لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہر قدم پر خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو بڑھاتا ہے اور کسی ایک موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ دشمن کے حملہ کی وجہ سے ہماری جماعت کم ہو گئی ہو۔ہم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ھتے چلے جاتے ہیں اور کوئی ایک دن بھی ہم پر ایسا نہیں چڑھا جب ہماری تعداد میں پہلے۔اضافہ نہ ہو گیا ہو۔پس کامیابی ہماری ہے اور نا کامی ہمارے دشمن کی۔