انوارالعلوم (جلد 17) — Page 543
انوار العلوم جلد ۱۷ لدلله الموعود میں اس بات کے لئے بھی تیار ہوں کہ اس غرض کے لئے بعض لوگ بطور قاضی یا حج مقرر کر دیئے جائیں جو بعد میں غور کر کے فیصلہ کر دیں کہ کس فریق نے قرآن کریم کے ایسے نئے علوم بیان کئے ہیں جو پہلی کسی تفسیر میں بیان نہیں ہوئے لیکن یہ ضروری ہو گا کہ وہ با دلائل فیصلہ لکھیں ۔ یہ کوئی عقائد سے تعلق رکھنے والی بات نہیں جس میں ججوں کا مقرر کرنا خلاف اصول ہو ۔ یہ محض ایک علمی چیز ہے اور اس کے لئے جوں کو فیصلہ کے لئے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ میں جس فیصلہ کرنے والے بورڈ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کرتا ہوں اور وہ ایسا بورڈ ہوتا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عقائد کے متعلق فیصلہ کرے گا اور میں اِس بات کو ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ عقائد کے تصفیہ کے متعلق کوئی بورڈ مقرر کیا جا سکتا ہے یا کسی اور کا فیصلہ تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ عقائد کے بارہ میں کسی شخص کی کوئی بات تسلیم نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن یہ ایک علمی مقابلہ ہے اس میں بعض لوگ اگر بطور جج مقرر ہو جائیں تو میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ میں نے جو طریق فیصلہ پیش کیا ہے اِس میں مخالف علماء کو کیا شبہ ہے اور میں اُن سے کس طرح دھوکا کرلوں گا ۔ مولوی محمد چیلنج ملی صاحب کا جواب تغیر نویسی کے اس پیج کے جواب میں مولوی محمدعلی صاحب نے ایک مضمون لکھا ہے۔ اسی طرح مصری صاحب نے بھی اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اِن میں سے ایک نے اشمه احمد ۳۴ کی آیت کو اور دوسرے نے وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبين ۳۵ والی آیت کو پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان آیات کی تفسیر میں مقابلہ کر لیا جائے حالانکہ یہ سیدھی بات ہے کہ جو آیتیں ایسی ہیں کہ ان کے معانی کے بیان کرنے میں ہم میں اور غیر احمد یوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اُن میں کوئی لطیف سے لطیف بات بھی مخالفین کے دلوں کو مطمئن نہیں کر سکتی ۔ خواہ ہم آیت خاتم النبین کے کیسے ہی لطیف معنی کریں یا اسمه احمد کی کتنی اعلیٰ درجہ کی تشریح کریں غیر احمدی ہمارے معنوں کو ضرور نا پسند کریں گے اس لئے ایسے اختلافی مسائل کے متعلق اُن کی رائے صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی ۔ اُن کی رائے ایسے ہی امور کے بارہ میں صحیح طور پر معلوم ہو سکتی ہے جو عام مضامین سے تعلق رکھتے ہوں ۔ اسی غرض کے لئے میں نے کہا ہے کہ قرعہ ڈالو اور