انوارالعلوم (جلد 17) — Page 536
انوار العلوم جلد ۷ ۵۳۶ الموعود قلم اُٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فر مایا اس کو نقل کرو۔بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا۔میں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر اُس کو نقل کر دیا۔اول تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی دوسرے میں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے اور پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔الف اور با وغیرہ احتیاط سے ڈالے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کو دیکھا تو فرمانے لگے مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا مگر اس کا خط میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔حضرت خلیفہ اول پہلے ہی میری تائید میں ادہا ر کھائے بیٹھے تھے فرمانے لگے حضور ! میر صاحب کو یونہی جوش آ گیا ورنہ اس کا خط تو بڑا اچھا ہے۔حضرت خلیفہ اول مجھے فرمایا کرتے تھے کہ میاں ! تمہاری صحت ایسی نہیں کہ تم خود پڑھ سکو۔میرے پاس آجایا کرو میں پڑھتا جاؤں گا اور تم سنتے رہا کرو۔چنانچہ انہوں نے زور دے دے کر پہلے قرآن پڑھایا اور پھر بخاری پڑھا دی۔یہ نہیں کہ آپ نے آہستہ آہستہ مجھے قرآن پڑھایا ہو بلکہ آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ قرآن پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کرتے جاتے۔کوئی بات ضروری سمجھتے تو بتا دیتے ورنہ جلدی جلدی پڑھاتے چلے جاتے۔آپ نے تین مہینہ میں مجھے سارا قرآن پڑھا دیا تھا۔اس کے بعد پھر کچھ نافھے ہونے لگ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد آپ نے پھر مجھے کہا کہ میاں! مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔دراصل میں نے آپ کو بتا دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی میں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنی شروع کر دی تھی گونانے ہوتے رہے۔اسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔طب کا سبق میں نے اور میر محمد اسحق صاحب نے ایک دن ہی شروع کیا تھا بلکہ میر صاحب کا ایک لطیفہ ہے جو ہمارے گھر میں خوب مشہور ہوا کہ دوسرے ہی دن میر محمد اسحاق صاحب اپنی والدہ سے کہنے لگے اماں جان! مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ مولوی صاحب دیر سے مطب میں آتے ہیں۔میں پہلے مطب میں چلا جاؤں گا تا کہ مریضوں کو نسخے لکھ لکھ کر دوں