انوارالعلوم (جلد 17) — Page 23
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۳ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۳ ) سمجھتے ہوئے یہ کہیں کہ قانون کی آڑ میں جو ہوتا ہے اُسے ہونے دو، تو یہ ایسا بر ا نمونہ ہے کہ اس کی تقلید کا شوق کسی کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتا ۔ ایسے خیالات میرے دل میں پیدا ہوئے اور قریب تھا کہ وہ دعائیں جو پہلے ہم اس قدر شوق اور جوش سے انگریزوں کی کامیابی اور فتح کے لئے کرتے تھے وہ دل سے نکلنا بند ہو جائیں کہ انہیں ایام میں میں نے ایک رؤیا دیکھا۔ انگریزوں کی فتح کے بارہ میں ایک رؤیا میں دیکھتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے میں اس میں ہوں اور تھوڑے سے پانی کے بعد ایک اور علاقہ ہے میں اُس علاقہ کا نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ مولوی عبدالکریم صاحب آئے ہیں اور انگریزوں کے حق میں ریکروٹنگ کے متعلق تقریریں کر رہے ہیں اُنہیں دیکھ کر میں حیران ہوتا ہوں کہ مولوی صاحب تو فوت ہو چکے ہیں اور اگلے جہان سے کوئی انسان اس دنیا میں آ نہیں سکتا ۔ پھر یہ کیا بات ہے میں نے کسی سے دریافت کرایا یا کسی نے مجھے خود بتایا کہ مولوی صاحب اجازت لے کر آئے ہیں تا کہ اس موقع پر انگریزوں کے حق میں پراپیگنڈہ کریں ۔ پھر میں نے دیکھا کہ دوسرا علاقہ جو میرے سامنے ہے اُس پر بے تحاشہ اور بڑی کثرت سے لاریاں اور موٹریں سامانِ جنگ سے بھری ہوئی اُترنی شروع ہوگئی ہیں ۔ میں نے دیکھا اُدھر تو بے شمار اور لاتعداد موٹریں اور لاریاں بے تحاشہ دوڑتی جا رہی تھیں اور ادھر مولوی عبدالکریم صاحب تقریریں کر رہے تھے اُس وقت میں نے سمجھا کہ بعض افراد کی غلطیاں اس عظیم الشان حکمت پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظہور میں آنے والی ہے خواہ انگریز ہمارے بارے میں کتنی ہی غلطیاں کریں خدا تعالیٰ ان کے ذریعہ یا پھر ان کے ہاتھوں ان کے دشمنوں کے ذریعے ایسے ذرائع اور اسباب پیدا کرنے والا ہے کہ جو اسلام اور احمدیت کے غلبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی فتح ضروری ہے اور اتنی ضروری ہے کہ جو بزرگ فوت ہو چکے ہیں اُن کی روحوں کو ان کی مدد کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دوسرے دن اٹلی میں اتحادی فوجیں اتر پڑیں اور تیسرے چوتھے روز اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک ولایتی اخبار کا اقتباس چھپا جس میں لکھا تھا کہ اٹلی میں اتنی اور اتنی لا ریاں اُتریں کہ جن کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا سوائے اس کے کہ کسی نے لندن کی کسی بڑی