انوارالعلوم (جلد 17) — Page 22
انوار العلوم جلد ۷ ۲۲ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) اس وقت سب سے پہلے تو میں یہ بات کہنی چاہتا ہوں کہ جو آثار گزشتہ سال ایک ایسی بنیاد کے معلوم ہوتے تھے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ بنیا د اسلام کی ترقی و غلبہ کا موجب ثابت ہوگی اس کے متعلق یہ خیال غیر معمولی طور پر درست ثابت ہو رہا ہے اور ایسے آثار پیدا ہو رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ دنیا میں نیک تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے۔گزشتہ سال جس طرح عیدین اور کئی اور ایک دوست نے لکھا ہے وَاللَّهُ أَعْلَمُ کہاں تک صحیح ہے کہ ہندوؤں کا سال بھی اس دفعہ جمعہ کے دن سے شروع ہوا ہے بہر حال موجودہ جنگ ایسے تغیرات اپنے اندر رکھتی ہے کہ جو اسلام کے لئے مفید ہیں اور اس خیال کی تائید میں یہ آثار ظاہر ہو رہے ہیں کہ غیر معمولی طور پر اتحادیوں کو فتوحات حاصل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اسلامی ترقیات جو غیر ممالک سے وابستہ ہیں وہ اتحادیوں سے وابستہ ہیں مگر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ ترقیات اتحادیوں کی فتح سے وابستہ ہیں خواہ وہ ترقیات اُن ممالک سے ہی شروع ہوں جو اس وقت اتحادیوں کے دشمن ہیں اور ان سے برسر جنگ ہیں۔میرا یہ خیال اب اور بھی مضبوط ہو گیا ہے اس وجہ سے کہ کچھ عرصہ ہوا قادیان کے پاس ایک گاؤں میں فساد ہوا تھا۔اس کے بعض حصہ کے متعلق یقین تھا اور اب بھی ہے کہ گورنمنٹ کے بعض حکام کا ان میں دخل ہے۔حکومت انگریزی کے افسران کے متعلق پھر ہمیں حکومت کے افسروں سے یہ بھی شکوہ ہے کہ گو اُنہوں نے ہماری باتیں سن کر تسلیم کیا کہ ہم انہی باتوں کو درست سمجھتے ہیں جو تم نے بتائی ہیں مگر ساتھ ہی یہ کہا کہ قانون کو اسی طرح چلنے دیا جائے جس طرح وہ چلتا ہے حالانکہ قانون خود نہیں چلا کرتا اُسے انسان ہی چلاتے ہیں جس طرح کہ وہ چاہتے ہیں۔مجھے یہ فعل گورنمنٹ کے بالا حکام کا انصاف ، دیانت اور تقویٰ کے خلاف نظر آیا۔اس سے گورنمنٹ کی اُس ہمدردی اور خیر خواہی کو جو ہمارے دل میں ہے بہت صدمہ پہنچا۔مجھے خیال آیا کہ ایسی حکومت جس کے افراد ہزاروں میل دُور سے اپنے گھروں سے یہ کہہ کر نکلتے ہیں کہ ہم عدل اور انصاف قائم کرنے کے لئے چلے ہیں اور ہمارے کام دیانت داری پر مبنی ہوں گے۔پھر وہ ہزاروں روپے تنخواہ پاتے ہیں اور یہ روپے ہندوستانیوں کی جیبوں سے نکلتے ہیں ان کی اگر یہ حالت ہو کہ ایک بات کو درست اور صحیح