انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 515

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۵ الموعود ضرورت ہے تو وہ نسلیں اُچھلیں گی جن کے زمانہ میں یہ روشنی ظاہر ہو گی ہم سے یہ کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہم اس ظلمت میں ہی اُچھلنے اور گودنے لگ جائیں ۔ ہمارے سامنے تو اسلام پر اعتراضات ہو رہے ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا سے مٹایا جا رہا ہے، قرآن کریم کو نَعُوذُ بِالله ایک نا قابلِ عمل کتاب قرار دیا جا رہا ہے مگر کوئی روشنی ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہوئی جو اس ظلمت کو دور کر دے ۔ اگر کسی آنے والی روشنی پر اچھلنا ضروری ہے تو وہی لوگ خوشی سے اُچھل سکتے ہیں جو اس روشنی کو دیکھ لیں ۔ ہم نے تو اس روشنی کو دیکھا ہی نہیں پھر ہم کس طرح خوشی منا سکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ ہی کہ :۔ اے لوگو ! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہوا اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی ۔“ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے ہزاروں لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ یہ روشنی ظاہر ہو جائے گی اس لئے وہ لوگ جو اس روشنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اُن سے کہا گیا کہ وہ خوش ہوں اور خوشی سے اُچھلیں ۔ غرض یہ الفاظ بھی اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ہی خوشی سے اُچھلنے اور گودنے کا وقت ہے کیونکہ یہ روشنی اُن کے سامنے ظاہر ہوگی ۔ دو پھر حضرت خلیفہ اول کے نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام شَاهَتِ الْوُجُوهُ اپنے خط میں ایک الہام تحریر فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں تو یوسف کی یاد کرتے کرتے یا تو دیوانہ ہو جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا یعنی تیرے زمانہ میں وہ ظاہر نہیں ہو گا مگر فرماتا ہے ۔ شَاهَتِ الْوُجُوهُ - اِن دشمنوں کے منہ کالے ہو جائیں گے اور تو ضرور یوسف کو دیکھے گا ۔ اس سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اس موعود کا پیدا ہونا ضروری ہے ورنہ حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کی مثال کے کیا معنی ہو سکتے ہیں ۔ حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کی مثال اسی صورت میں چسپاں ہو سکتی تھی جب آپ کو بھی اپنا یوسف زندگی میں مل جاتا کیونکہ حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کو