انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 516

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۶ الموعود اپنی زندگی میں دیکھ لیا تھا۔یہ نہیں ہوا کہ اُن کی وفات کے تین سو سال کے بعد کہیں ان کی نسل کو یوسف کا پتہ لگا ہو۔یہ پیشگوئی صاف بتا رہی تھی کہ لوگ اعتراض کریں گے اور کہیں گے کہ تو یوسف کی یاد کرتے کرتے یا دیوانہ ہو جائے گا یا اسی حالت میں مر جائے گا تیرے زمانہ میں وہ ظاہر نہیں ہوگا لیکن فرماتا ہے شَاهَتِ الْوُجُوهُ - اللہ تعالیٰ ان دشمنوں کے منہ کالے کر دے گا اور تو اپنی زندگی میں یوسف کو دیکھ لے گا یعنی یہ پیشگوئی کسی اور زمانہ میں نہیں بلکہ تیرے زمانہ میں اور تیری زندگی میں ہی پوری ہو جائے گی۔پھر فرماتے ہیں ایک دوسرے بشیر کا وعدہ ہے جس کا بشیر ثانی اور محمود ایک ہی ہیں ہم محمد بھی ہے۔چنانچہ فرمایا۔خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے وہ اپنے کاموں میں الوالعزم ہوگا۔يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ، ۲۳ اسی طرح پندرہ جولائی ۱۸۸۸ ء کے اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں:۔66 ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہو گا، ۲۴ اس سے معلوم ہوا کہ بشیر ثانی اور محمود ایک ہی ہیں اور محمود کی نسبت یہ وعدہ ہے کہ وہ قریب مدت میں پیدا ہوگا۔گویا اس میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ بشیر ثانی اور محمود ایک ہی ہیں۔دوسرے یہ کہ وہ بشیر اوّل کے بعد قریب مدت میں پیدا ہو گا۔اِن الہامات کے مطابق لازماً بشیر اوّل کی وفات کے بعد قریب مدت میں اس موعود کا پیدا ہونا ضروری تھا۔ان تمام الہامات سے جو اوپر بیان کئے جاچکے ہیں ثابت ہوتا ہے کہ مصلح موعود کا ۹ سال میں اور قریب مدت میں بشیر اول کے قریب زمانہ میں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اور اُن لوگوں کی زندگی میں جن کو بشیر اول کی وفات کا صدمہ ہوا تھا اور بہت سے اُن دشمنوں کی زندگی میں جو اسلام کی اُس وقت مخالفت کر رہے تھے اور اسلام کی فتح سے گھبراتے تھے پیدا ہونا ضروری تھا اور یقینا مصلح موعود ۹ سال کے عرصہ میں ، قریب مدت میں ، بشیر اول کے قریب زمانہ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی پیدا ہوا اور اُن