انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 513

انوار العلوم جلد ۱۷ الله الموعود ہوتی ہے گو یا صیب تو ایک ہوتا ہے مگر اس کے نتائج تین ہوتے ہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے با دل ایک رکھا ہے مگر اس کے نتائج تین بیان کئے ہیں ۔ یعنی ظلمات ، رعد اور برق ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ اس صیب کا ایک نتیجہ جو ظلمات سے تعلق رکھتا ہے بشیر اول ہے اور دوسرا نتیجہ جو رعد اور برق سے تعلق رکھتا ہے بشیر ثانی ہے۔ اگر یہ معنی لئے جائیں گے کہ بشیر ثانی تین سو سال کے بعد ظاہر ہو گا تو اس کے معنی یہ بنیں گے کہ بادل تو آج آیا ہے اور اس بادل کی ظلمات بھی آج ظاہر ہوگئی ہیں مگر اس بادل کی رعد اور برق تین سو سال کے بعد ظاہر ہوں گی ۔ حالانکہ یہ بالکل عقل کے خلاف ہے کہ ایک بادل کی ظلمات آج ظاہر ہوں اور اُس کی رعد اور برق تین چار سو سال کے بعد ظاہر ہوں ۔ بیشک مثال مثال ہی ہوتی ہے مگر مثال کے چسپاں کرنے کے لئے دونوں میں مشابہت کا پایا جانا تو ضروری ہوتا ہے۔ اگر مشابہت نہ ہو تو مثال دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بادل کی مثال دی ہے اور غور کر کے دیکھ لو دنیا میں کوئی بادل ایسا نہیں ہوتا جس کی تاریکی آج ظاہر ہو اور اُس کی رعد اور برق چار سو سال کے بعد ظاہر ہو۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رعد اور برق ظلمت کے بعد اتنے قریب ترین عرصہ میں ظاہر ہونی چاہئے کہ ان تینوں کا ایک ہی زمانہ قرار دیا جائے اور ایک کو دوسرے کے ساتھ وابستہ سمجھا جائے یعنی بشیر اول کی موت کے بعد دوسرا بشیر قریب ترین عرصہ میں پیدا ہو جائے تاکہ دوسرے بشیر کو پہلے بشیر کے ساتھ قرار دیا جا سکے ۔ پھر فرماتے ہیں الہام سے ظاہر ہے کہ ظلمت اور روشنی دونوں بشیر اول کے قدموں کے نیچے ہیں ۔ یعنی اُس کی موت کے بعد یہ دونوں امر ظاہر ہوں گے ۔ اِس سے بھی ظاہر ہے کہ بشیر ثانی کا ظہور بشیر اول کی موت کے ساتھ ہی ہونے والا تھا ورنہ اُس کے قدموں کے نیچے ہونا ایسے امر کو کس طرح کہا جا سکتا تھا جو تین سو سال کے بعد ہونے والا تھا۔ ایک شبہ کا کا ازالہ ازالہ یہ مر یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کے سلسلہ میں بعض دفعہ ایک ہی کو دوسرے نبی کے ساتھ آنے والا قرار دے دیا جاتا ہے خواہ ان دو نبیوں کے نبی درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو مگر یہاں اس مثال کو پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لئے کہ بشیر اول ما مور نہیں تھا ۔ اگر ایک مامور دنیا میں آئے تو اس کے بعد دوسرے مامور کی بعثت