انوارالعلوم (جلد 17) — Page 504
انوار العلوم جلد کا ۵۰۴ الموعود کے درمیان ہوتی ہے۔جولڑ کی پیٹ میں تھی اور دو تین ماہ میں پیدا ہونے والی تھی اُس کی نسبت یہ الفاظ استعمال کرنے تو بالکل لغو ہو جاتے ہیں اگر اس حمل کی طرف اشارہ ہوتا۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار محک اخیار میں لکھا ہے ” اس حمل“ کے الفاظ چاہیئے تھے نہ کہ مدت حمل کے۔بشیر اول کی وفات پر لوگوں کے اعتراضات پھر کیم دسمبر ۱۸ء کو بشیر اول کی وفات پر آپ نے وہ اشتہار شائع فرمایا جو سبز اشتہار کہلاتا ہے۔اس میں آپ نے لوگوں کے اُس شور و شر کا جواب دیا جو بشیر اول کی وفات پر پیدا ہوا تھا کہ پیشگوئی تو ایک بہت بڑی شان اور عظمت رکھنے والے لڑکے کے متعلق کی گئی تھی مگر وہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔یہ شورش سراسر غلط تھی کیونکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے الہامات میں ایک لفظ بھی ایسا نہ تھا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ پہلا بشیر اس پیشگوئی کا مصداق تھا۔الہامات میں تو صرف ایک خاص صفات والے لڑکے کی خبر تھی جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ 9 سال کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔ہاں ایک اور لڑکے کی بھی خبر تھی جس کے متعلق یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ایک مدت حمل میں پیدا ہوگا اور تشریح کر دی گئی تھی کہ اس وقت حضرت اماں جان حاملہ ہیں یا اس حمل میں یا اس کے قریب کے حمل میں وہ پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق بشیر اول پیدا ہوا۔اور ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء کی پیشگوئی کے ہی ایک دوسرے حصہ کے مطابق جس میں اُسے مہمان قرار دیا گیا تھا وہ ۴/ نومبر ۱۸۸۸ ء کو فوت ہو گیا۔۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء والی پیشگوئی کے ”سبز اشتہار میں یہ بھی بتایا گیا متعلق حضرت مسیح موعود کی الہامی تصریح کہ ۲۴ فروری ۱۸۶ء کے اشتہار میں درحقیقت دو پیش گوئیاں تھیں۔”مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے ان الفاظ تک بشیر اول کے متعلق پیشگوئی تھی اور اُس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا ان الفاظ سے وہ پیشگوئی شروع ہوتی ہے جو صلح موعود کے متعلق ہے۔گویا یہ پیشگوئی جو پہلے صرف ایک لڑکے کے متعلق سمجھی گئی تھی اس کے متعلق بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاماً یہ