انوارالعلوم (جلد 17) — Page 498
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۹۸ الموعود کی طرف سے پیش نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس زمانہ میں مادیت اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے۔بیشک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دینی لحاظ سے تمام دنیا میں شہرت حاصل کی لیکن آپ تو اس پیشگوئی کا جزو اعظم تھے۔آپ کے علاوہ کوئی اور ایسا شخص نہیں جسے دینی لحاظ سے شہرت کا یہ مقام حاصل ہوا ہو۔اگر دو ارب دنیا کی آبادی سمجھ لی جائے اور اس میں سے ایک ارب عورتوں اور بچوں کو نکال دیا جائے تو باقی ایک ارب لوگوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مستی کرتے ہوئے کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی جس نے دینی لحاظ سے تمام دنیا میں شہرت حاصل کی ہو۔یہ بالکل واضح اور نمایاں بات ہے کہ اگر دینی لحاظ سے بعض لوگوں نے زمین کے کناروں تک شہرت حاصل کی ہو تو جتنی نسبت ایسے شہرت پانے والے شخصوں کی دنیا کی باقی آبادی کے مقابلہ میں ہوگی وہی نسبت اس پیشگوئی کی عظمت یا اس کی عدم عظمت کے درمیان سمجھی جائے گی۔فرض کرو ساری دنیا میں سے دس آدمی ایسے پیش کئے جا سکتے ہوں جنہوں نے دینی لحاظ سے تمام دنیا میں شہرت پائی ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسی پیشگوئی کی جو بیس کروڑ میں سے ایک پر پوری ہوسکتی ہے اور جہاں ہیں کروڑ چانس نفی کے ہوں کیا وہاں ایک منٹ کے لئے بھی کوئی شخص ایسی پیشگوئی کرنے کی جرات کر سکتا ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں گزشتہ پچاس سال کے عرصہ میں کوئی ایک مثال بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے سلسلہ کے باہر ایسی پیش نہیں کی جا سکتی کہ کسی شخص نے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کر کے مذہبی لحاظ سے ساری دنیا میں شہرت حاصل کی ہو۔عیسائی ہیں انہیں دنیوی لحاظ سے بڑی طاقت حاصل ہے اور اُن کے بادشاہوں کی شہرت بھی دنیا کے کناروں تک پھیلی ہوئی ہے لیکن اُن کو اس مثال کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہاں یہ شرط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور اسلام کی متابعت کرتے ہوئے ساری دنیا میں شہرت حاصل کرے گا اور یہ بات ایسی ہے جو اُن میں سے کسی کو حاصل نہیں۔وہ طاقتور ہیں ، وہ غالب اقوام میں سے ہیں اور اپنی طاقت اور غلبہ کے زور سے دنیا میں شہرت حاصل کر رہے ہیں اس لئے شہرت حاصل نہیں کر رہے کہ انہوں نے اسلام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔اسی طرح کئی سیاسی لیڈر ہیں