انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 491

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۹۱ الموعود مخالفت میں خصوصیت کے ساتھ اُس وقت کی آریہ سماج کے لیڈر پنڈت لیکھرام صاحب اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی پیش پیش تھے۔بالخصوص پنڈت لیکھرام صاحب نے اس مخالفت میں نمایاں حصہ لیا اور انہوں نے تکذیب براہین نامی کتاب بھی لکھی۔یہ حالات بتاتے ہیں کہ آریہ سماج نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حملہ کی سختی اور طاقت کو محسوس کر لیا تھا ورنہ اُن کے لیڈر کو اپنی عمر آپ کی تردید میں اس طرح خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔کاش! مسلمان اس حقیقت کو سمجھتے تو وہ وقت پر خطرہ سے آگاہ ہو جاتے۔مگر اُنہوں نے خود بھی آپ کی مخالفت میں حصہ لے کر دشمنان اسلام کے ہاتھ کو مضبوط کرنا شروع کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اُس وقت اپنا کوئی دعوی نہیں تھا جس کی تردید کے لئے یہ لوگ کھڑے ہوئے ہوں بلکہ اُس وقت آپ کا صرف اتنا دعویٰ تھا کہ اسلام سچا مذہب ہے لوگوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا اور غور نہ کرنے کی وجہ سے ہی وہ اس کی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں اب میں قرآن کریم کی تعلیم کو ایسے رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کروں گا کہ لوگوں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسی بدلائل اور پاکیزہ کتاب دنیا میں اور کوئی نہیں۔اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ مخالفین اسلام کا اصل حملہ آپ پر نہیں تھا کیونکہ آپ تو محض اسلام کے ایک وکیل کی حیثیت سے دنیا میں کھڑے ہوئے تھے اُن کا اصل حملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن کریم کی حقانیت پر تھا۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ دنیا میں قرآن کریم کا نور ظاہر ہو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی راستبازی کا دنیا کو علم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چلہ کشی کا ارادہ جب آپ نے دیکھا کہ غیر مسلم تو الگ رہے خود مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جس نے آپ کے خلاف لکھنا شروع کر دیا ہے حالانکہ آپ اسلام کی تائید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کے اظہار کیلئے کھڑے ہوئے تھے تو آپ کے دل میں سخت درد پیدا ہوا اور آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگنی شروع کیں کہ تو مجھے اپنی تائید سے ایسا موقع بہم پہنچا کہ میں اُن تمام وساوس کو جو اسلام کے خلاف پھیلائے جاتے ہیں اور اُن تمام حملوں کو جو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے جاتے ہیں کامیابی سے