انوارالعلوم (جلد 17) — Page 477
انوار العلوم جلد ۱۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) اُس کی قیمت ادا نہ کرتا تھا۔وہ حلف الفضول میں شامل ہونے والے لوگوں میں سے ہر ایک کے پاس باری باری گیا اور اُن سے کہا کہ ابو جہل سے میری رقم دلوادیں مگر سب نے اُس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ہر ایک ابو جہل جیسے بدگو آدمی کے پاس جانے سے ڈرتا تھا۔لوگوں نے اُس شخص کو مشورہ دیا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ۔وہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ بھی اس معاہدہ میں شامل ہیں آپ میرے ساتھ چلیں اور ابو جہل سے میری رقم دلوادیں۔جن لوگوں نے اُسے آپ کے پاس جانے کا مشورہ دیا وہ جانتے تھے کہ ابو جہل آپ کا سخت مخالف ہے اس لئے آپ اُس کے پاس نہ جائیں گے مگر جب اُس شخص نے آ کر آپ سے کہا کہ میرے ساتھ چلیں۔تو آپ نے فرمایا چلو۔چنانچہ آپ اُس کے ساتھ ابو جہل کے مکان پر گئے اور جا کر دروازہ پر دستک دی۔ابو جہل باہر آیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ نے اس شخص کی کچھ رقم دینی ہے؟ اُس نے کہا ہاں دینی تو ہے۔آپ نے فرمایا کہ پھر دے دیں آپ بڑے آدمی ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی رقم نہ دیں۔یہ سن کر ابو جہل فوراً اندر گیا اور رقم لا کر اُس کے حوالہ کر دی۔لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ ابو جہل آپ کی بات ہرگز نہ مانے گا اور اُن کو موقع مل جائے گا کہ کہیں کہ دیکھو! یہ نبی بنے پھرتے ہیں کیا ابو جہل سے اس شخص کی رقم دلوادی؟ مگر جب وہ شخص واپس آیا تو لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اُس نے کہا کہ میری رقم مجھے مل گئی ہے۔اُنہوں نے پوچھا کس طرح؟ اُس نے سارا واقعہ سنا دیا۔اس پر لوگ بہت حیران ہوئے اور ابو جہل کے پاس گئے اور کہا تم ہم لوگوں کو تو کہتے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بات تک نہ کرو، اُن پر ظلم کرو ، خوب تنگ کرو، مگر خود تم نے اُن کے کہنے پر اس شخص کی رقم فوراً ادا کر دی ہے۔ابو جہل نے کہا کہ تمہیں پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اس شخص کے ساتھ آئے اور اُنہوں نے دروازہ پر دستک دی تو میں با ہر آیا۔اُنہوں نے کہا کہ اس شخص کی رقم اگر تمہارے ذمہ ہے تو ادا کر دو۔میں چاہتا تو تھا کہ یہی جواب دوں کہ تم کون ہو جو مجھے نصیحت کرنے آئے ہو مگر مجھے یوں معلوم ہوا کہ ان کے دائیں اور