انوارالعلوم (جلد 17) — Page 471
انوار العلوم جلد کا ۴۷۱ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) سیاسیات میں حکومت کے افسران سرکاری نظام کا سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونا بہت خطرناک نتائج پیدا کرنے والی کا شامل ہونا خطرناک ہے بات ہے۔یونان میں اس وقت جو فسادات ہو رہے ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ سرکاری حکام کو سیاسی پارٹیوں میں گھسیٹا گیا۔اگر کوئی سرکاری افسر آج زمیندارہ لیگ کے لئے چندہ جمع کرتا ہے تو کل اگر مسلم لیگ کی حکومت بن جائے گی تو وہ کہے گی کہ تم نے زمیندارہ لیگ کو سات لاکھ چندہ جمع کر کے دیا تھا اب ہمیں دس لاکھ کر کے دو۔اور اگر کوئی اور پارٹی برسر اقتدار آ جائے گی تو وہ کہے گی ہمیں پندرہ لاکھ جمع کر کے دو۔اور اگر اسی طرح سیاسی پارٹیوں کیلئے چندہ جمع ہوتا رہے تو غریب زمینداروں کی تو شامت آ جائے گی۔اب تو زمیندار سرکاری حکام کے کہنے پر زمیندارہ لیگ کیلئے چندے دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ معمولی بات ہے تھوڑا سا چندہ دے کر افسروں کو خوش کریں مگر جہاں ڈیما کریسی ہو وہاں کبھی کسی ایک پارٹی کی حکومت نہیں رہ سکتی۔یہ بات ناممکن ہے کہ پنجاب میں ہمیشہ زمیندارہ لیگ ہی کی حکومت رہے۔آج اس کی حکومت ہے تو اگلے انتخابات میں کسی اور پارٹی کی ہو سکتی ہے اور اس سے اگلے میں کسی اور کی۔اس طرح حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر افسر نہیں بدلتے وہ تو مستقل ہوتے ہیں۔اور اگر افسروں کی اخلاقی حالت بگڑ جائے تو انتظام کا قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور اپنے ملک کی بہتری کیلئے ہر مسلمان ، ہر ہندو اور ہر سکھ کا فرض ہے کہ اگر وہ وزیر ہو یا کسی دوسری بڑی پوزیشن کا تو کبھی کسی سرکاری حاکم کو اپنی پارٹی کی مدد کیلئے نہ کہے۔سیاسی آدمی تو ہمیشہ بدلتے رہیں گے مگر سرکاری افسر مستقل ہوتے ہیں اور ملک کے فائدہ کیلئے ضروری ہے کہ اُن کو پارٹیوں سے آزا د ر کھا جائے اور اُن پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہونا چاہئے۔ور نہ ان کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور ہمارا اپنا تجربہ ہے کہ سرکاری حکام پارٹی بازی میں حصہ لیتے ہیں۔ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس ہمارے آدمیوں کا ایک وفد گیا اور اسے توجہ دلائی کہ اس ضلع میں ہمارے خلاف شورش ہوئی ہے اُسے دبائیں۔ہماری جماعت ہمیشہ حکومت سے تعاون کرتی ہے اور وفادار ہے۔اُس ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کبھی ایسا ہو گا اب تو آپ لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کی جماعت حکومت کی وفادار ہے اور اس سے تعاون کرتی ہے۔کیونکہ فلاں