انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 428

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۲۸ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات اور جو شخص بھی اس ترجمہ کے ذریعہ مسلمان ہو گا اُس کے ایمان لانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی رحمتیں اُن عورتوں پر نازل ہوں گی جنہوں نے اس ترجمہ میں حصہ لیا ہو گا۔پس میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی عورت بھی اس ثواب سے محروم نہ رہے اور تم میں سے کوئی عورت بھی ایسی نہ رہے جو ان رحمتوں سے حصہ لینے والی نہ ہو۔اگر وہ ایک کوڑی دینے کی ہی حیثیت رکھتی ہے تو ایک کوڑی دے کر ہی اِس میں شامل ہو جائے۔اگر کسی کی حیثیت کوڑی دینے کی ہی ہے تو خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کی کوڑی ہی کروڑ روپیہ کے برابر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اس رقم کو نہیں دیکھتا کہ وہ کتنی ہے بلکہ خدا تعالیٰ اُس اخلاص اور اُس نیت کو دیکھتا ہے جس اخلاص اور جس نیت کے ساتھ وہ دی گئی ہے۔اس کے علاوہ میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری گولڈ کوسٹ کی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہاں ایک زنانہ سکول بھی جاری کیا جائے جس کے لئے وہاں کے ایک احمدی نے پندرہ ہزار روپیہ کی زمین دے دی ہے اور اب وہاں کی لجنہ نے فیصلہ کیا ہے کہ عورتیں چندہ جمع کر کے وہاں سکول بنائیں مجھے وہاں سے چٹھی آئی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی احمدی بہنوں سے کہیں کہ وہ بھی اس کام میں ہماری مدد کر یں۔چنانچہ میں نے اس کے متعلق لجنہ اماءاللہ مرکزیہ سے بات کی ہے اور اُنہوں نے چار ہزار روپیہ بھجوانے کا وعدہ کیا ہے۔اس چار ہزار میں سے پندرہ سو کا وعدہ تو دہلی کی لجنہ اماءاللہ نے چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کی معرفت کیا ہے اور باقی رقم لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مختلف لجناؤں پر ڈال دی ہے جس کی اطلاع ہر ایک لجنہ کے پاس پہنچ جائے گی۔بہت تھوڑی تھوڑی رقم لجنات کے ذمہ ڈالی گئی ہے حتی کہ بعض کے ذمہ تو صرف چار چار پانچ پانچ روپے ڈالے گئے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جب اس کی اطلاع ہر ایک لجنہ کے پاس پہنچے گی تو اس چندہ میں بھی وہ ضرور حصہ لیں گی۔گویہ چار ہزار روپیہ کی رقم اتنی تھوڑی ہے کہ میں اگر چاہتا تو قادیان سے ہی بھجوائی جاسکتی تھی لیکن میں چاہتا ہوں کہ ساری جماعت کے اندر قربانی کی روح اور بیداری پیدا کی جائے اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ایک فرد کو دین کے کاموں میں شامل کیا جائے اس لئے میں نے یہ رقم جماعت کی مستورات پر پھیلا دی ہے۔ہر لجنہ کو اس کی اطلاع پہنچ جائے گی جب ان