انوارالعلوم (جلد 17) — Page 419
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۱۹ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات کرے۔قادیان میں تو لجنہ اماءاللہ دیر سے قائم ہے باقی سارے ہندوستان میں چالیس پچاس لجنائیں ہیں حالانکہ اس کے مقابل مردوں کی آٹھ سو سے اوپر انجمنیں ہیں۔جہاں مردوں کی آٹھ سو سے او پر انجمنیں ہیں وہاں عورتوں کی چالیس پچاس لجناؤں کے معنی یہ ہیں کہ ابھی تک عورتوں کا بیسواں حصہ بھی منظم نہیں ہوا۔کام کا سوال تو دوسری چیز ہے پہلا کام تو یہی ہوتا ہے کہ تنظیم مکمل کی جائے جب تک تنظیم کے سامان ہی پیدا نہ ہوں اُس وقت تک آگے کام کس طرح ہوسکتا ہے۔پس آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جتنی عورتیں یہاں جلسہ پر آئی ہوئی ہیں اگر اُن کے ہاں لجنہ اماءاللہ قائم نہیں ہے تو وہ یہاں سے واپس جا کر لجنہ اماءاللہ قائم کریں اور اگر وہاں لجنہ اماء اللہ قائم کرنے کے سامان نہ ہوں مثلاً وہاں کوئی پڑھی لکھی عورت نہ ہو جو کام کر سکے تو وہ مرکزی لجنہ اماءاللہ سے مل کر بات کرتی جائیں اور ہدایات لے لیں اور اپنا نام و پتہ وغیرہ اُن کو لکھاتی جائیں تاکہ ان کے ہاں لجنہ کے قیام کا سامان کیا جائے۔اگر ہم عورتوں کی اصلاح کا کام کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ جہاں ایک سے زیادہ عورتیں ہوں وہاں لجنہ اماءاللہ قائم کی جائے۔لجنہ کے معنی ہیں کمیٹی۔اردو میں جس کو کمیٹی کہتے ہیں عربی میں اس کا نام لجنہ ہے پس ہر احمد یہ جماعت میں مستورات کی ایک کمیٹی ہو جہاں پڑھی لکھ عورتیں موجود ہوں وہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ سے خط و کتابت کر کے قواعد وغیرہ منگوالیں اور اپنے ہاں کی عورتوں کو جمع کر کے اُن کو وہ قواعد وغیرہ سُنائیں اور لجنہ قائم کریں۔اور جہاں پڑھی لکھی عورتیں موجود نہ ہوں وہ کسی مرد سے خط لکھوا لیں اور مرکزی لجنہ کو اطلاع دیں اور اپنی ضروریات اُن کے سامنے بیان کریں اور اگر وہ عورتیں یہاں جلسہ پر آئی ہوئی ہوں تو وہ خود لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی کارکنوں سے مل کر اپنی ضرورتیں ان کے سامنے بیان کریں تا کہ مرکزی لجنہ اُن کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے مسئلہ کو حل کر سکے اور ہر جماعت میں لجنہ قائم ہو سکے۔پس جب تک تمام عورتوں تک آواز نہ پہنچائی جا سکے اُس وقت تک کام نہیں ہو سکتا اور آواز پہنچانے کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تمام عورتوں کو منظم کیا جائے اور ہر گاؤں اور ہر قصبہ اور ہر شہر میں لجنا ئیں قائم کی جائیں۔اس وقت ہندوستان سے باہر بھی بعض جگہوں پر لجنا ئیں قائم ہیں لیکن نہ تو ہندوستان کے اندر پوری طرح کام ہو رہا ہے اور نہ باہر ہی کام ہو رہا ہے پس میں