انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 413

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۱۳ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات ہے جس طرح کسی چیز کی تصویر ہوتی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔بڑے سے بڑے پہلوان کی تصویر ایک بچہ پھاڑ کر پھینک سکتا ہے اگر رستم کی تصویر کا غذ پر بنی ہوئی ہو تو دو سال کا بچہ آسانی سے اُسے پھاڑ سکتا ہے۔پس وہ انسان جس کے اندر انسانیت والی یہ دو باتیں نہیں پائی جاتیں وہ بھی محض ایک تصویر ہے جس کی خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی قدرا اور کوئی عزت نہیں۔آگے پھر انسان کے دو حصے ہیں ایک آدم کہلاتا ہے اور ایک کو حوا کا نام دیا گیا ہے اور جب ہم آدمی کا لفظ بولتے ہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں آدم کی اولاد، مرد ہو یا عورت۔بچوں کو ڈرانا ہو تو عورتیں حوا کا نام لے کر ڈراتی ہیں وہ بھی یہی حوا ہے۔بعض بُڑھیا عورتیں جن کے دانت نکل چکے ہوں کمر خمیدہ ہو چکی ہو اُس کے قریبی رشتہ دار بچے بھی اُس کو دیکھ کر ڈرنے لگتے ہیں یہ خیال کر کے کہ اتنے ہزار سال پہلے کی دادی حوا اگر آ جائیں تو یقیناً اُس کو دیکھ کر ڈر کے مارے بچے بھاگتے پھریں۔حوا حوا کہہ کر عورتیں اپنے بچوں کو ڈراتی ہیں مگر یہ حوا دراصل وہی دادی حوا ہیں جو آدم علیہ السلام کی بیوی تھیں۔آدم علیہ السلام کا نام تو قرآن مجید میں آتا ہے اور حوا کا نام اسلامی لٹریچر اور احادیث وغیرہ میں مذکور ہے۔یہ دونوں نام یعنی آدم اور حوا بامعنی لفظ ہیں۔آدم کے معنی ہیں سطح زمین پر رہنے والا جو کھیتوں میں کام کرتا ہے ، تجارتیں کرتا ہے ، سفر کرتا ہے۔عربی میں آدیم الارض سطح زمین کو کہتے ہیں اور آدم اُس وجود کا نام ہے جو سطح زمین پر رہتا ہے اور میدانوں میں کام کر کے اپنی روزی کماتا ہے۔اور حوا کا لفظ خواى يَحْوِی سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ڈھانپ لینا۔کسی چیز کو جمع کر لینا یا کسی چیز کا مالک ہو جانا تو حوا کے معنی ہیں جو بچوں کو گھیر کر اپنے اردگرد جمع کر لیتی ہے اور اُن پر حکومت کرتی ہے اور گھر کی مالکہ کہلاتی ہے۔پس یہ دونوں نام با معنی ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس کو ہم آدم کہتے ہیں واقعہ میں اُس کا نام ہی آدم تھا یا اُس کی ان صفات کی وجہ سے اُس کا نام آدم رکھا گیا ہے اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں میں جس وجود کا نام حوا رکھا گیا ہے واقعہ میں اُس کا نام ہی تو تھا یا اس کی ان صفات کو ظاہر کرنے کے لئے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے۔بہر حال جو کچھ بھی ہواگر فی الواقعہ یہ اُن کے نام تھے تو اُن کے یہ نام حقیقت کو ظاہر کرنے والے تھے اور اگر یہ اُن کی صفات تھیں تو پھر تو صفات ہی تھیں۔پس آدم کے معنی ہیں جو محنت کرے ، میدانوں میں