انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 10

انوار العلوم جلد ۱۷ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ ء ) خاطر گالیاں سننے سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے۔سچا احمدی تو وہی ہے جو خدا کی خاطر اعتراضوں کو برداشت کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں کسی دوست نے ایک نیک تحریک جاری کی۔کچھ عرصہ کے بعد اُن سے پوچھا گیا کہ کام کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اچھا کام نظر نہیں آتا۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو پسند نہیں کیونکہ نہ کسی نے گالی دی اور نہ اعتراض کیا۔تو خدا کی خاطر جو تحریک ہوتی ہے اس پر ضرور اعتراض ہوتے ہیں اُن پر بر انہیں منانا چاہئے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ کہنے لگے کہ مبارک ہو یہ تحریک مبارک ہے۔گالیوں سے بھرا ہوا ایک خط آیا ہے۔تو خدا کی خاطر اعتراضات کو برداشت کرنا حقیقی قومی ترقی کی روح ہے۔اعتراضات کا فوراً جواب دینا تھر دلی کی علامت ہے۔مولوی برہان الدین صاحب سلسلہ کے بزرگوں میں سے تھے۔۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے۔بڑا شاندار استقبال ہوا لیکن وہاں دشمنوں نے گالیاں بھی دیں۔جب حضور واپس آنے لگے تو لوگ پتھر مارنے لگے ، پتھروں کی کثرت کی وجہ سے گاڑی کی کھڑکیاں بند کر دی گئیں۔مولوی صاحب بیچارے بوڑھے آدمی تھے ، وہ ان لوگوں کے قابو چڑھ گئے کبھی داڑھی کھینچتے کبھی مکے مارتے کبھی دھکے دیتے وہ چلتے جائیں اور کہتے جائیں سُبحَانَ اللهِ ساڈیاں ایسیاں قسمتاں کتھوں آخر لوگوں نے پکڑ کر اُن کے منہ میں گوبر ڈال دیا تو کہنے لگے سُبحَانَ اللهِ ساڈی قسمت وچ ایہ نعمتاں کتھوں“ تو مؤمن پر دین کی وجہ سے جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ اُس کی نجات کا موجب ہوتا ہے اس۔اُسے گھبرانا نہیں چاہئے۔حضرت ابوطلحہ رسول کریم ﷺ کے عزیز صحابی تھے۔جنگِ اُحد میں جب حضور چند دوستوں کے ساتھ اکیلے رہ گئے تو حضرت ابوطلحہ حضور کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حضور کے منہ کے سامنے اپنا ہاتھ رکھ دیا۔دشمن نے اس قدر تیر پھینکے کہ اُن کا ہاتھ شل ہو گیا یے کئی سال کے بعد کسی نے اُن کا ہاتھ دیکھا تو کہا ٹھنڈا۔حضرت ابوطلحہ نے کہا کہ میرے لئے تو ساری برکتوں کا موجب یہ ہاتھ ہے۔جنگ اُحد میں جب رسول کریم ﷺ پر دشمن نے وار کیا تو میں