انوارالعلوم (جلد 17) — Page 383
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۸۳ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں اپنی کوشش ضرور کرنی چاہئے جو جبر کے قریب قریب ہو۔گو یا جبر بھی نہ ہو اور معمولی کوشش بھی نہ ہو بلکہ پوری کوشش کی جائے کہ ہر جماعت کے نمائندے قادیان بلوائے جائیں اور اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا جائے۔اس غرض کے لئے ہر سال ایک ماہ کی مدت کافی ہے۔اس ایک مہینہ میں باہر سے آنیوالے نمائندگان کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے جماعت کے چوٹی کے علماء مقرر کئے جاسکتے ہیں اور خدام الاحمدیہ اگر چاہیں تو اس بارہ میں مجھ سے مدد لے سکتے ہیں۔ہم اس ایک مہینہ کے درس کے لئے انہیں اپنی جماعت کے چوٹی کے عالم دے دیں گے جو آنے والوں کو قرآن کریم پڑھا دیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ پہلے سال میں انہیں قرآن کریم کا مکمل ترجمہ پڑھا دیا جائے اگر ایک مہینہ میں دس یا پندرہ سیپارے بھی پڑھائے جاسکیں تو اگلے ایک یا دو سالوں میں وہ سارا ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔اِس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو تین سال کے اندر اندر ہر جماعت میں ایسے آدمی پیدا ہو جائیں گے جو قرآن کریم کو اچھی طرح جانتے ہوں گے اور دوسروں کو بھی قرآن کریم پڑھا سکیں گے۔قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے کسی قدر صرف و نحو کی بھی ضروت ہوا کرتی ہے اس غرض کے لئے ایک کورس مقرر کر دیا جائے گا تا کہ وہ صرف ونحو سے بھی واقف ہو جا ئیں ممکن ہے صرف ونحو کے اس کورس کی وجہ سے قرآن کریم کا ترجمہ زیادہ نہ پڑھایا جا سکے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آئندہ سالوں میں صرف ونحو جاننے کی وجہ سے وہ زیادہ عمدگی سے قرآن کریم کا بقیہ حصہ پڑھ سکیں گے اور زیادہ عمدگی سے پڑھا سکیں گے۔جب تک تھوڑی بہت صرف و نحو نہ آتی ہو اُس وقت تک دوسروں کو پڑھانا آسان نہیں بلکہ مشکل ہوتا ہے۔دوسری ہدایت تعلیمی نقطہ نگاہ سے یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ کا نہ صرف قرآن کے ترجمہ سے بلکہ بعض اور دینی علوم سے بھی واقف ہونا ضروری ہے مگر وہ علوم آہستہ آہستہ ہی حاصل ہو سکتے ہیں فوری طور پر اُن کا حاصل ہونا ناممکن ہے۔اور اصل بات تو یہ ہے کہ سارے علوم قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اگر انسان کو قرآن کا صحیح علم ہو تو اُسے اور علوم خود بخو د حاصل ہو جاتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے میں نے یہ ہدایت دی ہے کہ ہر سال یہاں بیرونی جماعتوں سے آنے والے نمائندگان کو قرآن پڑھانے کا انتظام ہونا چاہئے۔مگر جب تک یہ سکیم مکمل نہیں ہوتی اور