انوارالعلوم (جلد 17) — Page iv
ر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ محض اللہ تعالی کے فضل و احسان اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے فضل عمر فاؤنڈیشن کو سیدنا حضرت المصلح الموعود خلیفہ المسیح الثانی کی حقائق و معارف سے بھر پور سلسلۂ تصانیف انوار العلوم کی سترہویں جلد احباب جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ انوار العلوم کی جلد هذا سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی کی ۲۶ دسمبر ۱۹۴۳ء سے ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۴ ء تک کی ۲۲ تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے ۔ یہ عرصہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کئی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پسر موعود کی جو عظیم الشان پیش خبری عطا فرمائی تھی اس پیشگوئی کے پورا ہونے اور جناب الہی کی طرف سے دنیا پر اس کے اعلان کا وقت آ گیا ۔ اگر چہ حضرت مصلح موعود اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان خوشخبری کے تحت پیدا ہوئے اور روز اول سے آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق تھے لیکن آپ نے کسر نفسی کی وجہ سے اس کا اظہار نہ فرمایا لیکن جب کا نہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کی خبر دی تو پھر اِس اِذنِ الہی کا آپ نے پر شوکت اعلان فرمایا ۔ جنوری ۱۹۴۴ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اپنی حرم حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ