انوارالعلوم (جلد 17) — Page 357
انوار العلوم جلد کا ۳۵۷ میری مریم تھیں۔ابھی چند ماہ ہوئے نہایت خوش الحانی سے ایک عربی نظم مجھے سنائی تھی۔سیدہ سارہ بیگم کے بچوں سے سلوک جب میں نے تعلیم نسواں کے خیال سے ساره بیگم مرحومہ سے شادی کی تو مرحومہ نے خوشی سے اِن کو اپنے ساتھ رکھنے کا وعدہ کیا مگر اِس وعدہ کو نباہ نہ سکیں اور آخرا لگ الگ انتظام کرنا پڑا۔یہ باہمی رقابت سارہ بیگم کی وفات تک رہی مگر بعد میں ان کے بچوں سے ایسا پیار کیا کہ وہ بچے ان کو اپنی ماں کی طرح عزیز سمجھتے تھے۔بیماری کی ابتداء میں بتا چکا ہوں کہ مریم بیگم کو پہلے بچہ کی پیدائش پر ہی اندرونی بیماری لگ گئی تھی جو ہر بچہ کی پیدائش پر بڑھ جاتی تھی اور جب بھی کوئی محنت کا کام کرنا پڑتا تو اس سے اور بھی بڑھ جاتی تھی۔میں نے اس کے لئے ہر چند علاج کروایا مگر فائدہ نہ ہوا۔دو دفعہ ایچی سن ہاسپٹل میں داخل کروا کر علاج کروایا۔ایک دفعہ لا ہور چھاؤنی میں رکھ کر علاج کروایا۔کرنل نلسن ، کرنل ہیز کرنل کا کس وغیرہ چوٹی کے ڈاکٹروں سے مشورے بھی لئے ، علاج بھی کروائے مگر مرض میں ایسی کمی نہیں آئی کہ صحت عود کر آئے بلکہ صرف عارضی افاقہ ہوتا تھا چونکہ طبیعت حساس تھی کسی بات کی برداشت نہ تھی ، کئی دفعہ ناراضگی میں بے ہوشی کے دورے ہو جاتے تھے اور اُن میں اندرونی اعضاء کو اور صدمہ پہنچ جاتا تھا۔آخرمیں نے دل پر پتھر رکھ کر ان سے کہہ دیا کہ پھر دورہ ہوا تو میں علاج کیلئے پاس نہ آؤں گا۔چونکہ دورے ہسٹیریا کے تھے۔میں جانتا تھا کہ اس سے فائدہ ہوگا اس کے بعد صرف ایک دورہ ہوا اور میں ڈاکٹر صاحب کو بلا کر خود چلا گیا اس وجہ سے آئندہ انہوں نے اپنے نفس کو روکنا شروع کر دیا اور عمر کے آخری تین چار سالوں میں دورہ نہیں ہوا۔لجنہ کے کام کو غیر معمولی ترقی دی میں نے اوپر لکھا ہے کہ ان کا دل کام میں تھا کتاب میں نہیں۔جب سارہ بیگم فوت ہوئیں تو مریم کے کام کی روح اُبھری اور انہوں نے لجنہ کے کام کو خود سنبھالا۔جماعت کی مستورات اس امر کی گواہ ہیں کہ انہوں نے باوجود علم کی کمی کے اس کام کو کیسا سنبھالا۔انہوں نے لجنہ میں جان ڈال دی۔آج کی لجنہ وہ لجنہ نہیں جو امتہ الحی مرحومہ یا سارہ بیگم مرحومہ کے زمانہ کی تھی۔