انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 351

انوار العلوم جلد ۷ ۳۵۱ میری مریم سے سفر کے پہلے چند روز میں نے مریم کو خط نہ لکھا مگر الحَمدُ لِلَّهِ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جلد سمجھ دے دی اور میں نے ان کو نا جائز تکالیف میں پڑنے سے بچالیا۔اٹلی سے میں نے ان کو ایک محبت سے پُر خط لکھا۔جسے اُنہوں نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا اس میں ایک شعر تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ روم اچھا شہر ہے مگر تمہارے بغیر تو یہ بھی اُجاڑ معلوم ہوتا ہے۔اتفاقاً ایک دفعہ اس شعر کا ذکر ۱۹۳۰ ء میں یعنی سفر ولایت کے سات سال بعد ہوا تو وہ جھٹ اُٹھ کر وہ خط لے آئیں اور کہا کہ میں نے وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔یہی شعر میں نے امتہ الحی مرحومہ کو بھی لکھا تھا۔خدا کی قدرت یہ دونوں ہی فوت ہو گئیں اور روم کی جگہ اس دنیا میں مجھے ان کے بغیر زندگی بسر کرنی پڑی۔سیدہ امتہ الحی سے آخری وقت کا وعدہ بہر حال جب میں سفر انگلستان واپس آیا اور آنے کے چند روز بعد امتہ الحی فوت ہو گئیں تو ان کے چھوٹے بچوں کا سنبھالنے والا مجھے کوئی نظر نہ آتا تھا۔ادھر مرحومہ کے دل پر ان کی وفات کے وقت اپنے بچوں کی پرورش کا سخت بو جھ تھا۔خصوصاً امتہ القیوم بیگم کے بارہ میں وہ بار بار کہتی تھیں کہ رشید کو دائی نے پالا ہے اسے میرا اتنا خیال نہ ہو گا۔خلیل ابھی ایک ماہ کا ہے اسے میں یاد بھی نہ رہوں گی امتہ القیوم بڑی ہے اس کا کیا حال ہو گا۔کبھی وہ ایک کی طرف دیکھتی تھیں اور کبھی دوسرے کی طرف مگر اس بارہ میں میری طرف نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھتی تھیں۔شاید سمجھتی ہوں گی مرد بچوں کو پالنا کیا جانیں۔میں بار بار ان کی طرف دیکھتا تھا اور کچھ کہنا چاہتا تھا مگر دوسرے لوگوں کی موجودگی سے شرما جا تا تھا۔آخر ایک وقت خلوت کا مل گیا اور امتہ الحی سے کہا امتہ الحی ! تم اس قدر فکر کیوں کرتی ہو۔اگر میں زندہ رہا تو تمہارے بچوں کا خیال رکھوں گا اور انشاء اللہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہونے دوں گا۔میں نے اِن کی تسلی کے لئے کہنے کو تو کہہ دیا مگر سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں۔وعدہ کا ایفاء بوجھ آ پڑا ہے کیا تم میری مدد کر سکتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی ہزار ہزار برکتیں ان کی آخرامہ الحی کی وفات کی پہلی رات میں نے مریم سے کہا مریم ! مجھ پر ایک روح پر ہوں وہ فوراً بول پڑیں ہاں میں ان کا خیال رکھوں گی۔جس طرح ماں اپنے بچوں کو