انوارالعلوم (جلد 17) — Page 344
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۴۴ خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو تم عیسائیوں کو دیکھ لو انہیں تم کچھ کہہ لو۔چاہے اُن کو خدا کا منکر کہو، چاہے اُن کو صلیب پرست کہو، چاہے اُن کو مشرک کہو اور چاہے اُن کو ضالین کہہ لو مگر ایک مثال اُن کے اندرایسی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی آنکھ اُن کے سامنے جھک جانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ تمہارے اندر خلافت قائم کی جائے گی اور اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اندر خلافت قائم بھی کی لیکن مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت کو اپنی نادانی سے اُڑا دیا اور عیسائیوں نے خود خلافت قائم کی جو اُنیس سو سال کا لمبا عرصہ گزارنے کے باوجود آج تک اُن کے اندر قائم ہے۔عیسائیوں کے پوپ کو دیکھ لو اُس کو وہ خلیفہ کے برابر ہی سمجھتے ہیں اور باوجود یکہ مذہب نے اُن کو کوئی ہدایت نہیں دی تھی انہوں نے خدا تعالیٰ کی گزشتہ سنت کو دیکھتے ہوئے اسی میں اپنی بہتری سمجھی اور کہا آؤ ہم اس خدائی سنت سے فائدہ اُٹھا ئیں اور اپنے اندر خلافت قائم کریں۔وہ قوم دینی لحاظ سے بالکل تباہ ہوگئی ، وہ قوم اچھے اعمال کو کھو بیٹھی ، اس قوم نے اپنے آپ کو گلی طور پر دنیوی رنگ میں رنگین کر لیا، اس قوم نے خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی لیکن اُنہوں نے آج تک اس چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے کہ آج بھی ان کا پوپ یورپ کے بڑے سے بڑے تاجدار اور شہنشاہ کی برابری کرتا ہے اور بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ بادشاہت ہمیں پوپ سے ہی پہنچی ہے۔یہ وہ چیز تھی جو اُن کی کامیابی کا موجب ہوئی۔اگر مسلمان بھی اِس کو قائم رکھتے تو آج ان کو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔انہوں نے خلافت کو اُڑا دیا اور پھر اپنے دلوں کو تسکین دینے کے لئے ہر بادشاہ کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا مگر گجا لکڑی کی بنی ہوئی بھینس اور گجا اصل بھینس۔لکڑی کی بنی ہوئی بھینس کو دیکھ کر کوئی شخص خوش نہیں ہو سکتا لیکن وہ اپنی اصل بھینس کو دیکھ کر ضرور خوش ہوتا ہے چاہے وہ کتنی ہی لاغر اور دبلی پتلی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ دودھ دے یا نہ دے۔مسلمانوں نے چونکہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت کی ناقدری کی اور اُسے اُڑا دیا اور پھر اس کی برکات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوئے دُنیوی بادشاہوں کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا اس لئے وہ خلافت کی برکات سے محروم ہو گئے۔اب یہ ہماری جماعت کا کام ہے کہ وہ اس غفلت