انوارالعلوم (جلد 17) — Page 343
انوار العلوم جلد ۷ ۳۴۳ خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی“ ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ جماعت کی یہ حالت کب تک رہے گی ، کب تک خدا کا نور ہمارے در میان موجود رہے گا ، کب تک ہم اپنے آپ کو اس نور سے وابستہ رکھیں گے ، مگر بہر حال یہ لمبا سلسلہ بتاتا ہے کہ کس طرح ایک کے بعد ایک چیز آئی۔لوگ جب پہلی چیز کو بھول جاتے ہیں تو خدا دوسری چیز کو بھیج دیتا ہے اور دنیا کی خوشی اور اُس کی شادمانی کا سامان مہیا کر دیتا ہے لیکن ایک چیز ہے جو شروع سے آخر تک ہمیں تمام سلسلہ میں نظر آتی ہے۔آدم آیا اور آدم کے ساتھ خدا آیا۔آدم چلا گیا لیکن ہمارا زندہ خدا اس دنیا میں موجود رہا، نوح آیا اور نوح کے ساتھ خدا آیا۔نوقح چلا گیا لیکن ہمارا زندہ خدا اس دنیا میں موجود رہا ، ابراہیم آیا اور ابراہیم کے ساتھ خدا آیا ابراہیم فوت ہو گیا لیکن ہمارا زندہ خدا اس دنیا میں موجود رہا۔اسی طرح اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، موسی عیسی اور آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہر ایک کے ساتھ خدا آیا۔اُن میں سے ہر شخص فوت ہو گیا لیکن ہمارا خدا زندہ رہا، زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ہر شخص جو اُس سے تعلق پیدا کر لیتا ہے وہ ہمیشہ اپنی جڑیں اس زمین میں پائے گا جو خدا کی رحمت کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔اُس پودے کی طرح اپنے آپ کو نہیں پائے گا جس کی جڑیں اچھی زمین میں سے اُکھیڑ کر ایک خراب اور ناقص زمین میں لگا دی جاتی ہیں۔پس یا د رکھو! جسمانی تناسل انسان کو موت اور فنا کی طرف لے جاتا ہے گو وہ انسان کے لئے خوشی کا بھی موجب ہوتا ہے، راحت کا بھی موجب ہوتا ہے مگر روحانی تناسل جس کے ذریعہ ایک پاک انسان دوسرے پاک انسان کو پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے دنیا سے رنج اور غم کو بالکل مٹا دیتا ہے کیونکہ اس تعلق کیلئے موت نہیں، اس تعلق کیلئے فنا نہیں اور اگر بنی نوع انسان چاہیں تو وہ اپنی زندگی کو دائمی زندگی بنا سکتے ہیں۔جس کا طریق یہی ہے کہ ہر نسل قدرت ثانیہ کے مظاہر کے ذریعہ اس طرح خدا تعالیٰ سے وابستہ رہے جس طرح پہلی نسل اُس سے وابستہ رہی ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔کیونکہ روحانی تناسل کا انقطاع ایک موت ہے لیکن جسمانی تناسل کا انقطاع صرف ایک عارضی صدمہ۔