انوارالعلوم (جلد 17) — Page 318
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۱۸ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض اگر ہم دہریت کی تمام شاخوں کی قطع و برید کر دیں ، اگر ہم خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین کالج میں تعلیم پانے والے لڑکوں کے دلوں میں اس مضبوطی سے پیدا کر دیں کہ دنیا کا کوئی فلسفہ، دنیا کی کوئی سائنس اور دنیا کا کوئی حساب انہیں اس عقیدہ سے منحرف نہ کر سکے تو ہم سمجھیں گے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ۔ چونکہ اب شام ہوگئی ہے اس لئے میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں لیکن میں آخر میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری نیت یہ ہے کہ جلد سے جلد اس کالج کو بی ۔اے بلکہ ایم ۔اے تک پہنچا دیں اس لئے کالج کے جو پروفیسر مقرر ہوئے ہیں انہیں اپنی تعلیمی قابلیت کو بھی بڑھانے کا فکر کرنا چاہئے اور آئندہ ضروریات کے لئے اُنہیں ابھی سے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے تا کہ جب بڑی کلاسز کھولی جائیں تو قواعد کے لحاظ سے اور ضرورت کے لحاظ سے اور تجربہ کے لحاظ سے وہ اُن کلاسز کو تعلیم دینے کے لئے موزوں ہوں اور اس کام کے اہل ہوں اور چونکہ ہمارا منشاء آگے بڑھنے کا ہے اس لئے جہاں کالج کے پروفیسروں کو اپنا تعلیمی معیار بلند کرنا چاہئے اور اپنے اندر موجودہ قابلیت سے بہت زیادہ قابلیت پیدا کرنی چاہئے وہاں انہیں یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب کالج میں وسعت پیدا ہو تو جو اچھے اور ہونہار طالب علم ہوں اور دین کا جوش اپنے اندر رکھتے ہوں اُن کو اس قابل بنائیں کہ وہ اعلیٰ نمبروں پر پاس ہوں اور ساتھ ہی اُن کے دینی جوش میں ترقی ہو تا کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہوں تو وہ صرف دنیا کمانے میں ہی نہ لگ جائیں بلکہ اس کا لج میں پروفیسر یا لیکچرار کا کام کر کے سلسلہ کی خدمت کر سکیں ۔ پس ایک طرف وہ اعلیٰ درج کے ذہین اور ہوشیار لڑکوں کے متعلق یہ کوشش کریں کہ وہ اچھے نمبروں پر کامیاب ہوں اور دوسری طرف انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائیں کہ جب وہ اپنے تعلیمی مقصد کو حاصل کر لیں تو اس کے بعد اپنی محنت اور دماغی کاوش کا بہترین بدلہ بجائے سو ۔ ئے سونے چاندی کی صورت میں حاصل کرنے کے اس رنگ میں حاصل کریں کہ اپنے آپ کو ملک اور قوم کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔ اس کے بغیر کالج کا عملہ مکمل نہیں ہو سکتا ۔ پس ایک طرف ہمارے پروفیسر خود علم بڑھانے کی کوشش کریں اور دوسری طرف آئندہ پروفیسروں کے لئے ابھی سے سامان پیدا کرنے شروع کر دیں اور نوجوانوں سے کہیں کہ وہ قوم