انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 3

انوار العلوم جلد ۷ محبت الہی ہی ساری ترقیات کی جڑ ہے تعلیم میں پیچھے ہے اور ایسا صوبہ ہے جو لڑائی اور فساد میں مشہور ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک بھولے بسرے گاؤں میں ایک ایسی تحریک جو دنیا میں امن قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے جاری فرمائی ہے۔وہ صوبہ جو ہندوستان ایسے فسادی ملک میں فساد کی جڑ سمجھا جاتا ہے، وہ قومیں جو اشتعال انگیزی اور اشتعال پذیری میں پڑول کی سی شہرت رکھتی ہیں ، اس جگہ اور ان لوگوں میں امن عامہ کی تحریک کا پیدا کرنا اور پھر اُسے کامیاب بنانا ایک ایسا آسمانی نشان ہوگا کہ دنیا اس کی عظمت کا انکار نہ کر سکے گی۔پس آؤ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس ناممکن کام کو جو ہماری طاقتوں اور قوتوں کے لحاظ سے ناممکن ہے ممکن کر دکھائے۔کیونکہ اس کی طاقتوں اور قدرتوں کے لحاظ سے جس چیز کو وہ چاہے اور جس بات کا ارادہ کرے، وہ ناممکن نہیں ہے۔( اس کے بعد حضور نے تمام حاضرین سمیت لمبی دعا کروائی اور پھر فرمایا ) جلسہ کے بعد جلسہ کا پروگرام تو اور ہے مگر میں ایک دوضروری باتیں کہنا چاہتا ہوں۔دوستوں کو جیسا کہ پہلے اطلاع دی جا چکی ہے چونکہ میری طبیعت خراب ہے اس لئے میں ملاقاتوں کا بوجھ زیادہ برداشت نہ کر سکوں گا۔اسی وجہ سے تقریروں میں بھی بہت کچھ کمی کرنے کی ضرورت ہو گی۔احباب کو معلوم ہے کہ اس سال کے ماہ مئی کے شروع سے میری طبیعت خراب چلی آ رہی ہے۔ڈلہوزی جانے پر دو ماہ کے قریب آرام رہا۔عوارض اور علامات میں تخفیف رہی مگر نومبر کے درمیان سے پھر کھانسی شروع ہوگئی اور اس کی وجہ سے بعض دفعہ تو آواز اس قد ر بیٹھ جاتی ہے کہ اپنے قریب کے آدمی کو بھی نہیں سنا سکتا۔شروع بیماری کے وقت تو ایسی حالت ہو گئی تھی کہ پاس کے کمرہ میں سے بھی کسی کو بلانا ہوتا تو آواز دینے کی بجائے تالی بجانی پڑتی یا کوئی چیز کھٹکھٹانی پڑتی تھی۔یہاں تک کہ میں اپنی آواز دس بارہ فٹ تک بھی نہیں پہنچا سکتا تھا۔اب بھی جس وقت کھانسی لمبی ہو جائے تو دورہ کے طور پر ایسی حالت ہو جاتی ہے۔پرسوں جمعہ پڑھانے کے بعد جب میں گیا تو آواز بیٹھ گئی اور کئی گھنٹوں کے بعد یہ تکلیف دور ہوئی۔ان حالات میں قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت احتیاط کی ضرورت ہوگی۔