انوارالعلوم (جلد 17) — Page 4
انوار العلوم جلد ۱۷ محبت الہی ہی ساری ترقیات کی جڑ ہے یوں بھی ضعف کی کیفیت ایسی ہے کہ بعض اوقات سینہ میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ سینہ میں کوئی تھیلی تھی جو نیچے کو جھک گئی ہے اور اس کی وجہ سے کندھے وغیرہ بوجھ اُٹھانے کے قابل نہیں رہتے اور بعض دفعہ تو کپڑے بھی بوجھ محسوس ہوتے ہیں اور سارے جسم میں درد شروع ہو جاتا ہے۔پس ان اسباب کی وجہ سے تقریروں اور ملاقاتوں میں بھی کمی کرنی ہو گی۔میں سمجھتا ہوں دوست اس کو زیادہ محسوس نہ کریں گے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔آخر کام ایک حد تک۔ہی کیا جا سکتا ہے اس سے زیادہ ناممکن ہوتا ہے۔میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آیا جلسہ کے ایام میں میں پوری طرح ملاقات بھی کر سکوں گا یا نہیں۔جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے میری ایک بیوی طاہر احمد کی والدہ بیمار ہیں اور لاہور کے ہسپتال میں داخل ہیں۔ان کے متعلق تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا ہے کہ سوائے آپریشن کے علاج کی اور کوئی صورت نہیں اور بدھ کے دن آپریشن کرنا تجویز کیا ہے۔میں کوشش کروں گا کہ مریضہ کے متعلق خطرہ پیدا ہوئے بغیر اگر آپریشن ایک دو دن کے لئے ملتوی کیا جا سکے تو کر دیا جائے تا کہ میں جلسہ کے کام سے فارغ ہو کر وہاں چلا جاؤں۔لیکن اگر ملتوی نہ کیا جا سکا تو منگل کی شام کو مجھے لاہور جانا پڑے گا۔اس وجہ سے منگل کے بعد جو ملاقاتیں ہیں وہ نہ ہو سکیں گی۔میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے بہت ہی عجز کے ساتھ دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس مقصد پر قائم رکھے جس کے لئے یہ قائم کی گئی ہے اور جماعت کو اپنی گود میں لے لے۔بہر حال انسان آتے اور چلے جاتے ہیں جو پناہ حقیقی اور دائی ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا کا وہ حصہ جبکہ میں نے محسوس کیا کہ خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے ہو رہی ہے پورے طور پر بغیر ایک ثانیہ اور ایک سیکنڈ اپنے لئے یا اپنے عزیزوں کے لئے صرف کرنے کے ساری کی ساری دعا جماعت کے لئے کی ہے اور میں جب اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہا تھا کہ تو اس جماعت کو اپنی ہی گود میں لے لے اور خود اس کی حفاظت فرما کیونکہ تیری حفاظت کے بغیر وہ کام نہیں ہو سکتا جس کے کرنے کے لئے تو نے اس جماعت کو مقرر کیا ہے تو میں نے دیکھا کہ آسمان سے نور اُترا اور اس جلسہ گاہ پر چھا گیا۔پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیشہ ہی جماعت کا محافظ ہوگا اور جب تک جماعت