انوارالعلوم (جلد 17) — Page 316
انوار العلوم جلد ۷ ٣١٦ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض نکل رہی ہو۔قادیان سے باہر بے شک ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ہمارے سلسلہ کی کسی انسٹی ٹیوٹ میں اس قسم کی باتیں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔پس ہمارے نو جوانوں کو خود بھی احمدیت کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور دوسرے نوجوانوں پر بھی واضح کرنا چاہئے کہ یہاں کوئی ایسا طریق برداشت نہیں کیا جا سکتا جو دین کے خلاف ہو اور مذہبی روایات کے منافی ہو۔ہم نے یہ کالج دین کی تائید کے لئے بنایا ہے اگر کسی وقت یہ محسوس ہو کہ یہ کالج بجائے دین کی تائید کرنے کے بے دینی کا ایک ذریعہ ثابت ہو رہا ہے تو ہم ہزار گنا یہ زیادہ بہتر سمجھیں گے کہ اس کالج کو بند کر دیں بجائے اس کے کہ بے دینی اور خلاف مذہب حرکات کو برداشت کریں۔اس کالج کے پروفیسروں کو بھی یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ بیرونی دنیا میں عام طور پر صداقت کو اُس وقت تک قبول نہیں کیا جاتا جب تک یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے لوگ اس بات کو پیش کر رہے ہیں۔اگر ایک جتھہ کی طرف سے کوئی بات پیش کی جارہی ہو تو اُسے مان لیتے ہیں لیکن اگر ایک کمزور انسان کے منہ سے صداقت کی بات نکلے تو اُس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ہمیں اس طریق کے خلاف یہ عمل کرنا چاہئے کہ اگر صداقت صرف ایک لڑکے کے منہ سے نکلتی ہے تو ہم اس بات کا انتظار نہ کریں کہ جب تک سولر کا اُس کی تائید میں نہیں ہوگا ہم اُسے نہیں مانیں گے بلکہ ہمیں فورا وہ بات قبول کر لینی چاہئے کیونکہ صداقت کو قبول کرنے میں ہی برکت ہے اور صداقت کو قبول کرنے سے ہی قومی ترقی ہوتی ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا طریق سارے کا سارا اسلامی ہونا چاہئے بے شک ہندو، سکھ ، عیسائی جو بھی آئیں ہمیں فراخ دلی کے ساتھ اُنہیں خوش آمدید کہنا چاہئے مگر جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اُن کے اخلاق سرتا پا مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔اُن کی عادات مذہب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوں، اُن کے افکار مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں ، اُن کے خیالات مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔پس جہاں ہمارے پروفیسروں کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں وہاں اُن کا ایک یہ کام بھی ہے کہ وہ رات دن اس کام میں لگے رہیں کہ لڑکوں کے اخلاق اور اُن کی عادات اور اُن کے خیالات اور اُن کے افکار ایسے اعلیٰ ہوں کہ دوسروں کے لئے مذہبی لحاظ سے وہ ایک مثال اور نمونہ ہوں۔اگر