انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 315

۳۱۵ انوار العلوم جلد ۱۷ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض قائم ہے میں امید کرتا ہوں کہ کالج میں بھی اس کو قائم رکھا جائے گا۔احمدی طالب علموں کے متعلق تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس پر پوری طرح قائم رہیں گے لیکن چونکہ اس کا لج میں دوسرے طالب علم بھی داخل ہوں گے اِس لئے امید کرتا ہوں کہ ہمارے احمدی طلباء اپنے اثر سے دوسروں کو بھی اس روایت پر قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور کوئی ایسی حرکت نہیں ہونے دیں گے جو کالج کے نظام کے خلاف ہو اور جس سے یہ شبہ پڑتا ہو کہ زور اور طاقت سے اپنی بات منوانے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ زور اور طاقت سے ماننے کے لئے یہاں کوئی شخص تیار نہیں ہے۔دنیا میں لوگ زور اور طاقت سے اپنے مطالبات منواتے ہیں مگر وہ اُس وقت منواتے ہیں جب انہیں یقین ہوتا ہے کہ دوسرا فریق زور اور طاقت سے مرعوب ہو جائے گا۔اگر انہیں یہ یقین نہ ہو تو وہ زور اور طاقت استعمال کرنے کی جرات بھی نہ کریں۔واقعہ مشہور ہے کہ کوئی یتیم لڑکا جس کی ماں چکی پیس پیس کر گزار کیا کرتی تھی ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا مجھے دو آنے چاہئیں۔اُس نے اُسے کہا میرے پاس تو صرف ایک آنہ ہے وہ لے لو۔مگر لڑ کا ضد کرنے لگا اور کہنے لگا میں تو دو آنے ہی لوں گا۔وہ لڑکا اُس وقت چھت کی منڈیر پر بیٹھا تھا ماں کو کہنے لگا مجھے دو آنے دو ورنہ میں ابھی چھلانگ لگا کر مر جاؤں گا۔اُس بیچاری کا ایک ہی لڑکا تھا وہ اُسے ہاتھ جوڑے، منتیں کرے اور بار بار کہے کہ بیٹا ایک آنہ لے لے اس سے زیادہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ یہی کہتا چلا جائے کہ مجھے دو آنے دے نہیں تو میں ابھی چھلانگ لگا تا ہوں۔ماں نیچے کھڑی روتی جائے اور بچہ اوپر بیٹھ کر چھلانگ لگانے کی دھمکی دیتا چلا جائے۔اُس وقت اتفاقا گلی میں سے کوئی زمیندار گزر رہا تھا۔وہ پہلے تو باتیں سنتا رہا آخر اُس نے وہ آلہ جس سے توڑی ہلائی جاتی ہے اور جسے سانگھا کہتے ہیں نکال کر اُس لڑ کے کے سامنے کیا اور کہا تو اوپر سے آمیں نیچے سے سانگھا تیرے پیٹ میں ماروں گا۔لڑکا یہ سنتے ہی کہنے لگا میں نے چھلانگ تھوڑی لگانی ہے میں تو اپنی ماں کو ڈرا رہا تھا۔تو اس قسم کی باتیں وہیں سُنی جاتی ہیں جہاں زور اور طاقت سے دوسرے لوگ مرعوب ہو جاتے ہوں لیکن ہم وہ ہیں جنہیں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ صداقت خواہ ایک کمزور سے کمزور انسان کے منہ سے نکلے اُسے قبول کر لو اور صداقت کے خلاف کوئی بات قبول مت کرو چاہے وہ ایک طاقتور کے منہ سے