انوارالعلوم (جلد 17) — Page 310
انوار العلوم جلد ۱۷ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض ہوئی۔پھر پنجاب سے بڑھی اور افغانستان میں گئی ، بنگال میں گئی ، بمبئی میں گئی ، مدراس میں گئی ، یو۔پی میں گئی ، سندھ میں گئی ، بہار میں گئی ، اڑیسہ میں گئی سی پی میں گئی ، آسام میں گئی اور پھر اس سے بڑھ کر بیرونی ممالک میں پھیلنی شروع ہوئی۔چنانچہ انگلستان میں احمدیت پھیلی ، جرمنی میں احمدیت پھیلی ، ہنگری میں احمدیت پھیلی، امریکہ میں احمدیت پھیلی ، ارجنٹائن میں احمدیت پھیلی، یوگوسلاویہ میں احمدیت پھیلی، البانیہ میں احمدیت پھیلی، پولینڈ میں احمدیت پھیلی، زیکوسلواکیہ میں احمدیت پھیلی، سیرالیون میں احمدیت پھیلی ، گولڈ کوسٹ میں احمدیت پھیلی ، نائیجیریا میں احمدیت پھیلی ، مصر میں احمدیت پھیلی، مشرقی افریقہ میں احمدیت پھیلی ، ماریشس میں احمدیت پھیلی ،فلسطین میں احمدیت پھیلی ، شام میں احمدیت پھیلی ، روس میں احمدیت پھیلی ، کاشغر میں احمدیت پھیلی، ایران میں احمدیت پھیلی ، سٹریٹ سیٹلمنٹس کے میں احمدیت پھیلی ، جاوا میں احمدیت پھیلی ، ملایا میں احمدیت پھیلی ، چین میں احمدیت پھیلی ، جاپان میں احمدیت پھیلی غرض دنیا کے کناروں تک احمدیت پہنچی اور پھیلی اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ دنیا میں کچھ پاگل لوگ بھی ہوتے ہیں۔اگر چند پاگلوں نے احمدیت کو مان لیا ہے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں مگر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا کہ دنیا میں احمدیت کی ایسی مضبوط بنیا د قائم ہو جائے گی کہ یہ نہیں کہا جائے گا کہ احمدیت کی فتح کی امید ایک مجنونانہ خیال ہے بلکہ کہا جائے گا کہ احمد بیت کو مار دینے کا خیال ایک مجنونانہ خیال ہے۔وہ دن دور نہیں کہ وہی لوگ جو آج احمدیت کی ترقی کو ایک ناممکن چیز قرار دے رہے ہیں جب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ احمدیت ترقی کر گئی ہے ، احمدیت ساری دنیا پر چھا گئی ہے، احمدیت نے روحانی لحاظ سے ایک انقلاب عظیم پیدا کر دیا ہے، تو وہی لوگ کہیں گے احمدیت کی کامیابی اور اس کی فتح کوئی معجزہ نہیں۔اگر احمدیت فتحیاب نہ ہوتی تو کیا ہوتا اُس وقت یورپ اتنا مضمحل ہو چکا تھا ، اُس وقت انسانی دماغ اتنا پراگندہ ہو چکا تھا، اُس وقت سائنس اپنی حد بندیوں کو تو ڑ کر اس طرح کا ایک فلسفہ بن چکی تھی کہ اگر احمدیت نے فتح پائی تو یہ کوئی معجزہ نہیں۔اُس وقت کے حالات ہی اس فتح کو پیدا کر رہے تھے۔پس یہ بیچ جو ہم بور ہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ پیج پھیل جائے گا۔ہمیں یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں کہ