انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 290

انوار العلوم جلد ۷ ۲۹۰ زندگی وقف کرنے کی تحریک تیسرے چوتھے دن کسی غریب کو خیال آیا اور وہ رات کے وقت انہیں ایک روٹی دے گیا مگر معلوم ہوتا ہے وہ کوئی بہت ہی غریب شخص تھا کیونکہ روٹی سات آٹھ دن کی تھی اور ایسی سوکھی ہوئی تھی جیسے لوہے کی تھالی ہوتی ہے۔وہ اپنے ہاتھ میں روٹی لے کر انتہائی افسردگی کے عالم میں بیٹھ گئے اور حیرت سے منہ میں انگلی ڈال کر اپنی حالت پر غور کرنے لگے کہ کس حد تک ہماری حالت گر چکی ہے۔میراثی اُن کے چہرے کے رنگ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس وقت یہ سخت غم کی حالت میں ہیں اور اُس نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو یہ صدمے سے بیمار ہو جائیں، میراثیوں کو چونکہ بنسی کی عادت ہوتی ہے اِس لئے اُس نے سمجھا کہ اب مجھے کوئی مذاق کر کے ان کی طبیعت کا رُخ کسی اور طرف بدلنا چاہئے۔چنانچہ وہ مذاقاً کہنے لگا۔مرزا جی ! میرا حصہ۔وہ جانتا تھا کہ یہ کوئی حصے والی چیز نہیں مگر چونکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کا صدمہ کسی طرح دُور ہو اس لئے اُس نے مذاق کر دیا۔انہیں یہ سن کر سخت غصہ آیا اور انہوں نے زور سے روٹی اُس کی طرف پھینکی جو اُس کی ناک پر لگی اور خون بہنے لگ گیا۔یہ دیکھ کر وہ اُٹھے اور میراثی سے ہمدردی کرنے لگے۔اس طرح اُن کی دماغی حالت جو صدمہ سے غیر متوازن ہو گئی تھی درست ہوگئی ورنہ خطرہ یہی تھا کہ وہ اس غم سے کہیں پاگل نہ ہو جائیں۔پھر خدا نے اُن کیلئے ایسے سامان پیدا فرما دیے کہ وہ وہاں سے خوب علم پڑھ کر واپس آئے۔تو جب انسان کسی بات کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے اصل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ قربانی کی قدر کرتا ہے۔اگر لوگ دیکھیں کہ واقعہ میں کوئی شخص تکلیف اُٹھا رہا ہے اور دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنے نفس کو مشقت میں ڈال رہا ہے تو اُن کے دلوں میں ضرور جوش پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی اس سے کوئی نیک سلوک کر کے ثواب میں شامل ہو جا ئیں۔( عشاء کی نماز کے بعد فرمایا) میں نے جو تبلیغ کی سکیم بتائی ہے اس سے میری غرض یہ ہے کہ دوست اس کی اہمیت کو سمجھیں اور یہ بھی جان لیں کہ ان تبلیغی اخراجات کو برداشت کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔ایسے حالات میں ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی راہ نہیں کہ ہم دعاؤں میں مشغول