انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 289

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۸۹ زندگی وقف کرنے کی تحریک بڑی بالیچل کا پیدا ہو جانا محض مولوی برہان الدین صاحب کے اثر کا نتیجہ تھا۔اسی طرح اگر اب علماء کی طرف توجہ کی جائے تو ہزاروں لوگ ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں۔ایک دوست نے علاقہ سرگودھا کے حالات بیان کر کے عرض کیا کہ یہ علاقہ بھی تبلیغی نقطہ نگاہ سے حضور کی توجہ کا محتاج ہے۔اس پر آپ نے فرمایا ) سرگودھا بے شک تبلیغ کے لحاظ سے ہم پر حق رکھتا ہے کیونکہ حضرت خلیفہ اول اسی علاقہ کے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے جب سکھوں نے قادیان فتح کر لیا تو ہمارے خاندان کے افراد کپورتھلہ میں چلے گئے اور وہاں کی ریاست نے ان کو گزارہ کے لئے دو گاؤں دے دیئے۔کپورتھلہ میں ہی ہمارے پر دادا صاحب فوت ہو گئے تھے۔ہمارے دادا کی عمر اُس وقت سولہ سال تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پر دادا اپنے والد کے برخلاف جو بہت بڑے پارسا اور عزم کے مالک تھے کم ہمت تھے اور اسی وجہ سے ہمارے خاندان کو یہ ذلت پہنچی لیکن ہمارے دادا ہمت والے تھے۔اُس وقت جب ہمارے پر دادا فوت ہوئے وہ صرف سولہ سال کے تھے لیکن انہوں نے کہا میں اپنے باپ کو قادیان میں ہی دفن کروں گا۔چنانچہ وہ اُن کی لاش یہاں لائے سکھوں نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا مگر کچھ تو اُن کی دلیری کی وجہ سے اور کچھ اِس وجہ سے کہ ہمارے آباء اِس علاقہ پر حکمران رہ چکے تھے سارے علاقہ میں شورش ہوگئی اور لوگوں نے کہا ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کو اب یہاں دفن ہونے کے لئے بھی جگہ نہ دی جائے۔چنانچہ سکھوں نے اجازت دے دی اور وہ انہیں قادیان میں دفن کر گئے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے دادا نے جب یہ سلوک دیکھا تو انہوں نے کہا چونکہ اس زمانہ میں ساری عزت علم سے ہے اس لئے میں اب علم حاصل کر کے رہونگا تا کہ ہمارے خاندان کو عزت حاصل ہو۔چنانچہ انہوں نے گھر کو چھوڑ دیا اور دتی چلے گئے۔اُن کے ساتھ اُس زمانہ کے طریق کے مطابق ایک میراثی بھی چل پڑا۔اُنہوں نے سنا ہوا تھا کہ مساجد میں تعلیم کا انتظام ہوتا ہے جہاں لڑکے پڑھتے ہیں۔وہ بھی گئے اور ایک مسجد میں جا کر بیٹھ گئے مگر کسی نے اُن کو پوچھا تک نہیں یہاں تک کہ تین چار دن فاقہ سے گزر گئے۔