انوارالعلوم (جلد 17) — Page 288
۲۸۸ زندگی وقف کرنے کی تحریک انوار العلوم جلد ۱۷ ہو جاتے ہیں تب کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وہ ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے جب بارش کے بعد کیڑے مکوڑے نکلنے شروع ہوتے ہیں درحقیقت وہ بھی ایک چھوٹا سا حشر ہوتا ہے۔جب زمین پر پانی کا چھینٹا پڑتا ہے تو کوئی دولاتوں کا ٹڑا، کوئی چار لاتوں کا ٹڑا ، کوئی موٹا ، کوئی چھوٹا سب زمین میں سے نکل آتے ہیں۔یہی خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جب دنیا پر نبوت کی بارش نازل ہو تو اس کے بعد عالم بھی اور جاہل بھی تھوڑے علم والے بھی اور زیادہ علم والے بھی ، لائق بھی اور نالائق بھی سب اپنے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں جب وہ ایسا کرتے ہیں تو چونکہ سچائی میں ایک طاقت ہوتی ہے اس لئے لوگ خود بخود ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔اسی طرح اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ پرانے علماء کی طرف توجہ کی جائے اور اُنہیں احمدیت کی طرف مائل کیا جائے۔اگر دس پندرہ بڑے بڑے صاحب رسوخ مولوی ہماری جماعت میں داخل ہو جا ئیں تو ان کے اثر کی وجہ سے ایک ایک کے ساتھ ہزار ہزار دو دو ہزار آدمی آ سکتے ہیں۔پس ہمیں اپنی جماعت میں مولویوں کو کھینچ کھینچ کر لانا چاہئے بلکہ اگر ہمیں اُن کو قادیان آنے اور یہاں کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے اُن کی منتیں بھی کرنی پڑیں تو کوئی حرج نہیں۔مولوی قوم کے راجہ ہوتے ہیں جس طرح راجہ کے پیچھے اُس کی رعایا چلتی ہے اسی طرح جب کوئی صاحب اثر مولوی احمدیت قبول کر لے تو اُس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا بیعت میں شامل ہو جانا بالکل آسان ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کے اثر کے ماتحت بہت لوگ داخل ہوئے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جہلم سے مقدمہ کی پیروی کے بعد واپس تشریف لائے تو آپ بہت ہی متاثر تھے کیونکہ مولوی برہان الدین صاحب کا وہاں بڑا اثر تھا اور آپ جہاں جاتے یہی وعظ کرتے تھے کہ مرزا صاحب آ رہے ہیں جاؤ اور اُن کو دیکھو۔پھر اُن کے وعظ کا رنگ بھی عجیب تھا کہ بار بار کہتے سُبحَانَ اللہ ایہ نعمتاں کتھوں۔“ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب جہلم تشریف لے گئے تو ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سٹیشن سے کچہری تک لوگوں کے اثر دہام کی وجہ سے یہ حالت تھی کہ اگر تھالی پھینکی جاتی تو اُن کے سروں پر اُڑتی چلی جاتی۔ایک علاقہ کے علاقہ میں اتنی