انوارالعلوم (جلد 17) — Page 282
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۸۲ زندگی وقف کرنے کی تحریک میرے پاس تو یہی ایک چیز تھی سو میں نے اسے دے دی۔باپ کہنے لگا اب تو جو کچھ ہو چکا سو ہوچکا آئندہ کے لئے کسی نابالغ کو بھکشو نہ بنانا۔حضرت بدھ نے وعدہ کر لیا چنانچہ اب تک بدھ مذہب کے احکام میں یہ شامل ہے کہ کسی نابالغ کو بھکشو نہ بنایا جائے۔یہی طریق عیسائیوں کی تبلیغ کا تھا۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جاؤ اور تبلیغ کرو۔جب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہر نا پڑے اسی بستی کے رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑی حکمت سے یہ بات اپنی امت کو سکھائی ہے۔آپ نے فرمایا ہر بستی پر باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن فرض ہے۔ایک صحابی نے عرض کیايَا رَسُولَ اللہ ! اگر بستی والے کھانا نہ کھلا ئیں تو کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا تم زبر دستی اُن سے لےلوٹے گویا ہمارا حق ہے کہ ہم تین دن ٹھہریں اور بستی والوں کا فرض ہے کہ وہ تین دن کھانا کھلا ئیں۔میں سمجھتا ہوں اس میں رسول کریم ﷺ نے تبلیغ کے طریق کی طرف ہی اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں ، ہاں اگر تین دن سے زائد ہر کر تم اُن سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیگ ہو گی۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کسی گاؤں والے لڑیں تو جیسے حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا وہ اپنے پاؤں سے خاک جھاڑ کر آگے نکل جائیں تو میں سمجھتا ہوں تبلیغ کا سوال ایک دن میں حل ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جب وقف زندگی کا اعلان کیا تو گو وقف زندگی کی شرائط آپ نے خود نہیں لکھیں بلکہ میر حامد شاہ صاحب سے لکھوائیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو دیکھا اور کچھ اصلاح کے ساتھ پسند فرمایا۔مجھے خوب یاد ہے ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ میں کوئی معاوضہ نہیں لوں گا چاہے مجھے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑے میں گزارہ کروں گا اور تبلیغ کروں گا۔یہی وہ طریق ہے جس سے صحیح طور پر تبلیغ ہو سکتی ہے۔جب ہم اعدادو شمار سے کام لینے لگتے ہیں تو اخراجات کا اندازہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا کہ یہ