انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 280

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۸۰ زندگی وقف کرنے کی تحریک یہ ہیں اس لئے اگر سو مبلغ ہوں تو ساٹھ ہزار روپیہ سال کے خرچ سے ہم وسیع طور پر وہاں تبلیغ کر تو ہزار سکتے ہیں۔ اگر ہم وہاں سو مبلغ مقرر کریں تو میرا اندازہ یہ ہے کہ ایک ایک سال میں ہی لاکھ دولاکھ احمدی ہو جائیں اور دس بارہ سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے افریقہ کا اکثر حصہ احمدی ہو جائے کیونکہ تبلیغی لحاظ سے وہ اس قسم کا علاقہ ہے جسے کسی کو کوئی کان مل جاتی ہے یا خزانہ اُس کے ہاتھ آ جاتا ہے۔ اب ہمارا کا ارا کام ہے کہ اِس کان ہے کہ اس کان کو کھو دیں اور اس خزانہ سے فائدہ اُٹھائیں ۔ اگر ہم افریقہ میں صحیح طور پر تبلیغ کریں تو جیسے نبیوں کی جماعتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ایک دن يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ افَوَاجًال کا نظارہ انہیں نظر آنے لگتا ہے اسی طرح ہم يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّه افواجا کا نظارہ افریقہ میں دیکھ سکتے ہیں ۔ وہاں بعض دفعہ ایک ایک دن میں سو سو ، دو دوسو بلکہ ہزار ہزار احمدی ہوئے ہیں ۔ ہمارے ہاں تو جماعت کو اگر کہیں کامیابی ہو تو دوسری جگہ کے لوگ لٹھ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ تمہیں وہاں تو کامیابی ہوگئی تھی اب ہمارے ہاں آ کر دیکھو ہم کس طرح تمہاری خبر لیتے ہیں مگر وہاں یہ بات نہیں ۔ وہاں اُلٹا دوسرے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ آپ لوگ ہمیں کیوں بھول گئے کیا دوسرے زیادہ حق رکھتے تھے کہ آپ اُن کے پاس گئے اور ہمارے پاس نہیں آئے ۔ پس در حقیقت وہ سب سے زیادہ مستحق ہیں اس بات کے کہ اُن کی طرف توجہ کی جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ گوان اخراجات کو برداشت کرنے کی بھی ہماری جماعت میں طاقت نہیں لیکن فرض کر و جماعت ان اخراجات کو برداشت کر لے تو پھر بھی کیا ہو سکتا ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ یہ تبلیغ آٹے میں نمک کے برابرا بھی نہیں ۔ میں نے سرِ دست صرف ۸۰ مبلغین کا اندازہ کیا ہے۔ پچاس ہندوستان کے لئے اور تمیں بیرون ہند کے لئے ۔ اور اگر ان مبلغین کو بھی شامل کر لیا جائے جو بیرونی ممالک کے مبلغین کی جگہ بھیجوانے کیلئے تیار کئے جائیں گے تو یہ تعداد ایک سو دس تک پہنچ جاتی ہے لیکن اگر ہماری جماعت اس کو اہم کام قرار دے کر مطمئن ہو جائے اور اُس کا دل اس تبلیغ پر تسلی پا جائے تو میں اس کو جنون سے کم نہیں سمجھوں گا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے۔ میں نے بہت سوچا ہے مگر