انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 274

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۷۴ زندگی وقف کرنے کی تحریک اُدھر پھرنے پر جو اخراجات ہوتے ہیں ان کو لوظ رکھا جائے تو درحقیقت دوسو روپیہ فی مبلغ خرچ کا اندازہ ہے۔پھر خالی مبلغ رکھنا کافی نہیں ہوسکتا بلکہ تبلیغ کیلئے ٹریکٹوں وغیرہ کی اشاعت بھی ضروری ہوتی ہے ایسے کاموں کے لئے اگر سو روپیہ ماہوار رکھا جائے تو تین سو روپیہ ماہوار ایک مبلغ پر خرچ آ سکتا ہے۔چالیس کو تین سو سے ضرب دی جائے تو بارہ ہزار روپیہ ماہوار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔اگر چھ ہزار روپیہ بعض اور تبلیغی ضروریات کیلئے رکھ لیا جائے کیونکہ بعض دفعہ فوری طور پر ایسے اخراجات آپڑتے ہیں جن کا خیال تک نہیں ہوتا تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کے بعد ہم ادنیٰ سے ادنی تبلیغی مرکز ہندوستان میں کھول سکتے ہیں اور یہ ابھی صرف شہر ہیں دیہات کا حساب نہیں کیا گیا حالانکہ دیہات کی طرف ہمارا توجہ کرنا اور بھی ضروری ہے۔اس سے کم توجہ کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے اور اگر ہم کم توجہ کریں تو دنیا کی آبادی کے مقابلہ میں یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص شہر کی ایک تنگ گلی کے ایک چھوٹے سے مکان میں ایک تنگ کوٹھڑی میں دروازے بند کر کے شور مچانا شروع کر دے۔ابتداء میں جب ہم نے احمدیت کا اعلان کرنا تھا یہ صورت ہمارے لئے کافی ہو سکتی تھی مگر موجودہ صورت میں چالیس مبلغوں اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ سے کم میں ہندوستان کے شہروں میں تبلیغ کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں بنتے۔پھر جہاں چالیس مبلغ ہوں گے وہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض دفعہ کوئی بیمار ہو جائے یا ان میں سے کوئی چھٹی پر چلا جائے۔ان امور کو دیکھتے ہوئے در حقیقت دس مبلغ ہمیں زائد رکھنے پڑیں گے تا کہ جو لوگ چھٹی پر آئیں اُن کی جگہ وہ اس عرصہ میں تبلیغ کر سکیں بلکہ چالیس مبلغوں کے لحاظ سے دس مبلغ ریز رو ر کھنے بھی کم ہیں اصل میں میں مبلغ ہونے چاہئیں۔بہر حال دس ہی سمجھ لوتو پچاس ہو گئے۔دس مبلغوں کو ان اچانک پیش آنے والی ضروریات کے لئے اگر مرکز میں رکھا جائے تو چونکہ ان کے اخراجات اتنے نہیں ہو سکتے جتنے اُن مبلغوں کے اخراجات ہو سکتے ہیں جو باہر رہتے ہیں ، اس لئے میں سمجھتا ہوں ان کے لئے ہیں ہزار روپیہ ہمیں زائد رکھنا چاہئے۔گویا ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ ہو گیا۔یہ کم سے کم وہ تبلیغی اخراجات ہیں جو ہندوستان کے بعض شہروں پر ہو سکتے ہیں لیکن اس رقم میں لٹریچر کے اخراجات صرف نام کے طور پر رکھے گئے ہیں۔ان اخراجات سے ایسا لٹریچر شائع نہیں کیا جا سکتا جو سارے ہندوستان میں شور مچا دینے والا ہو۔