انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 266

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۶۶ اہالیان لدھیانہ سے خطاب خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے مگر وہ قوم با وجود اس کے کہ ابھی ایک حصہ اُس کا ایمان نہیں لایا بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز ان کو تمہارے حوالے کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ہم لڑ کر فنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔تب میں کہتا ہوں دیکھو وہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔اس کے بعد پھر اُن کو ہدا یتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دے کر اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں۔چنانچہ اسی لئے میں اُس شخص سے جسے میں نے اُس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں اب میں واپس آؤں گا تو اے عبدالشکور ! میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے، موحد ہو چکی ہے اور اسلام کے تمام احکام پر کار بند ہوچکی ہے۔یہ وہ رویا ہے جو میں نے جنوری ۱۹۴۴ء ( مطابق صلح ۱۳۲۳ ہش ) میں دیکھی اور جو غالباً پانچ اور چھ کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو میری نیند بالکل اُڑ گئی اور مجھے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ آنکھ کھلنے پر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا میں اُردو بالکل بھول چکا ہوں اور صرف عربی ہی جانتا ہوں چنا نچہ کوئی گھنٹہ بھر تک میں اس رؤیا پر غور کرتا اور سوچتا رہا۔مگر میں نے دیکھا کہ میں عربی میں ہی غور کرتا تھا اور اسی میں سوال و جواب میرے دل میں آتے تھے۔یہ رویا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھایا اور چونکہ اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ وہ موعود فرزند اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا نشان ہوگا اِس لئے میرا فرض ہوا کہ میں دنیا کو یہ رویا سنا دوں۔پس ۲۰ ر فروری کو جس دن کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیشگوئی لکھی تھی ہوشیار پور میں اِس کا اعلان کر دیا گیا۔۱۲ / مارچ ۱۹۴۴ء کو لاہور میں ( جہاں مجھے رؤیا ہوئی تھی ) جلسہ کر کے یہ رؤیا سنا دی گئی اور آج یہاں اعلان کرنے کیلئے میں آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کا سلسلہ شروع فرمایا تو صرف چالیس آدمیوں نے بیعت کی تھی مگر آج یہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں افراد پر مشتمل ہے۔پچاس ہزار سے زائد تو صرف مغربی افریقہ میں ہیں۔