انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 252

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۵۲ اہالیان لدھیانہ سے خطاب جب اس مخالفت نے سر نکالا تو حضرت خلیفہ اول نے اعلان کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں کوئی پیر نہیں ہوں کسی کی طاقت نہیں کہ مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔اس پر یہ لوگ بظاہر یہ کہہ کر خاموش ہو گئے کہ ہم اب ان کی بیعت کر چکے ہیں اور اس طرح ان کے قبضہ میں ہیں مگر اس کے ساتھ دوسرا ہتھیار یہ استعمال کرنے لگے کہ مجھے بے گناہ کو جسے کبھی یہ خیال بھی نہ آیا تھا کہ میں خلیفہ بنوں گا ، یہ کہ کہہ کر بدنام کرنا شروع کر دیا کہ اس بچہ کو خلیفہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور میرے خلاف ایسا پرو پیگنڈا شروع کیا کہ میرے بعض عزیز دوست بھی مجھے اس خیال سے تحقیر کی نگاہوں سے دیکھنے لگے کہ گویا میں جماعت میں فتنہ ڈالنے والا ہوں۔ہم نے ایک مجلس بنائی ہوئی تھی جس میں تقریروں کی مشق کی جاتی تھی ، حضرت خلیفہ اول اس کے صدر تھے مگر اِن لوگوں نے اس کے اجلاس کا پروگرام ایسا بنایا کہ میری تقریر اس میں نہ ہو سکے۔چنانچہ ایک دن جب میں حضرت خلیفہ اول کے پاس اس لئے گیا کہ پروگرام میں اس طرح تبدیلی کی جائے تو ایک دوست نے بڑے غصہ سے کہا کہ ہم یہاں تمہاری تقریریں سنے کیلئے نہیں آئے۔یہی لوگ ہر قسم کے انتظامات پر قابض تھے، سیکرٹری بھی انہی میں سے تھا، رسالوں کی ایڈیٹری پر بھی یہی قابض تھے اور یہ سب مجھے بدنام کر رہے تھے۔ایسی حالت میں ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول کا انتقال ہو گیا۔ان کی وفات سے قبل ہی مولوی محمد علی صاحب نے خفیہ طور پر ایک ٹریکٹ چھاپ کر رکھا ہوا تھا کہ مولوی صاحب کی وفات کے بعد کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی وفات سے قبل جب میں نے انہیں کہا کہ ہمیں مل کر یہ اعلان کرنا چاہئے کہ ہم میں کوئی اختلاف و جھگڑا وغیرہ نہیں تھا انہوں نے مجھے یہ جواب دیا کہ ان باتوں کا قادیان سے باہر کسی کو علم بھی نہیں کیا ضرورت ہے کہ اس بارہ میں کوئی اعلان لکھا جائے مگر خود خفیہ طور پر یہ ٹریکٹ چھپوا کر رکھ چھوڑا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کا نظام انجمن کے سپر د کیا ہے خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی بیعت تو اس لئے کر لی گئی تھی کہ آپ قابل اور بزرگ آدمی تھے۔میں نے یہ دیکھ کر مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ جماعت میں اتفاق رہنا چاہئے اور اس کو قائم رکھنے کے لئے میں یہ پیشکش کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کی پارٹی جس کو بھی خلیفہ منتخب کرے میں اُس کی