انوارالعلوم (جلد 17) — Page 251
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۵۱ اہالیان لدھیانہ سے خطاب بنا کر بازاروں میں سے گزارا جس پر وہ گوبر اور پاخانہ اور اینٹیں اور پتھر پھینک رہے تھے اور اس طرح ہنسی اُڑا رہے تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے جو آپ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کو میرے ذریعہ پورا کروانا چاہتا تھا اس نے اپنے فضل سے مجھے اس بات کی توفیق دی کہ جب میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مخالف اس طرح تمسخر کر رہے ہیں اور خوشی منا رہے ہیں اور بعض اپنی جماعت کے لوگوں کے قدم بھی ڈگمگا رہے ہیں تو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش کے پاس گیا اور آپ کے سرہانے کی طرف کھڑا ہو کر خدا تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا! میں تیرے اس مامور کے پاس کھڑے ہو کر تیرے حضور یہ اقرار کرتا ہوں کہ جس کام کے لئے تو نے اسے مامور کیا تھا میں اسے سرانجام دوں گا اور اگر ساری کی ساری جماعت بھی خدانخواستہ مرتد ہو جائے تب بھی میں اسے نہیں چھوڑوں گا اور اس کام میں کسی کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔اُس وقت میری عمر ۱۹ سال کی تھی اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے ایک انیس سالہ نوجوان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوائے اور پھر اُس نے اپنے فضل سے ہی مجھے یہ بھی توفیق دی کہ اپنے وعدہ کو پورے زور کے ساتھ پورا کروں اور ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا موجب بنوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی تھیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے اور میں جو ایک کمزور اور بیمار انسان تھا، ایسے وقت میں جب دنیا سمجھ رہی تھی کہ سلسلہ کا کام آب بند ہو جائے گا ، اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ میں آپ کے کام کو ضرور کروں گا۔آپ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے جماعت کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر اکٹھا کر دیا۔مولوی صاحب مرحوم بہت بڑے عالم تھے۔جب وہ خلیفہ ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ مولوی صاحب ہی پہلے اِس سلسلہ کو چلا رہے تھے۔پہلے آپ پیچھے تھے اب آپ آگے آگئے ہیں اُن کی زندگی تک تو یہ سلسلہ نہیں ٹوٹے گا مگر اُن کے بعد ختم ہو جائے گا لیکن ابھی چھ ماہ کا ہی عرصہ گزرا تھا کہ جماعت کے وہ لوگ جو سب سے زیادہ رسوخ جماعت میں رکھتے تھے وہ خلافت کی مخالفت کیلئے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجمن کو اپنا قائم مقام بنایا ہے، مولوی صاحب کو بزرگ سمجھ کر ہم نے ان کی بیعت کر لی ہے مگر کام چلانے کی ذمہ داری انجمن پر ہے۔