انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 250

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۵۰ اہالیان لدھیانہ سے خطاب مالک ہے خاندان کے دوسرے حصہ کے بعض افراد کے زیر اثر احمد یوں کو سخت تکالیف دی جاتی تھیں۔دھوبی ، ماشکی اور حجام اِن کا کام نہ کرتے تھے، مسجد کو جانے والی گلی میں دیوار کھینچ کر اندر جانے کا رستہ بند کر دیا گیا جو کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے گروا دی۔میں اُس زمانہ میں بہت چھوٹا تھا۱۲ ،۱۳ سال کی عمر تھی اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے بچے رویا ہوتے تھے۔چنانچہ ایک رؤیا اسی دیوار کے متعلق اُس زمانہ میں ہوا۔دیوار گرانے کے لئے عدالت میں دعوی دائر کیا گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس مسجد کی سیڑھیوں کے ایک جانب کھڑا ہوں اور بعض لوگ اِس دیوار کو گرا رہے ہیں کہ دوسری جانب سے حضرت خلیفہ اول جو منشی احمد جان صاحب لدھیانوی کے داماد تھے آ رہے ہیں اور پاس آ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔آخر اس مقدمہ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا اور اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ جب سرکاری پیادہ دیوار کو گرانے کے لئے آیا اور دیوار گرائی جانے لگی تو میں سیڑھیوں میں اسی جگہ کھڑا تھا جہاں میں نے خواب میں اپنے آپ کو کھڑا دیکھا تھا اور عین اُس وقت حضرت خلیفہ اول مسجد اقصیٰ کی طرف سے درس دے کر آئے اور آ کر اُسی جگہ کھڑے ہو گئے جہاں میں نے خواب میں اُن کو دیکھا تھا۔یہ باتیں ایسی ہیں جو انسان عقل سے معلوم نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ شروع سے ہی میرا تعلق اُس کے ساتھ ایسا رہا ہے کہ وہ غیب کی باتیں مجھے بتا تا رہتا ہے۔میں بیان کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حالت ایسی کمزور تھی کہ کوئی شخص خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ تمام دنیا تو کجا پنجاب میں بھی کوئی شہرت حاصل کر سکے گا۔آپ کے قتل کے منصوبے کئے گئے ، دوسروں کو قتل کرانے کے جھوٹے مقدمات آپ پر بنائے گئے مگر ہر موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد اور نصرت کی اور پھر دنیا میں چاروں طرف آپ کا نام پھیلا اور عزت کے ساتھ لیا جانے لگا اور جب آپ فوت ہوئے تو آپ کے ماننے والوں کی تعدا د لا کھوں تک پہنچ چکی تھی مگر پھر بھی آپ کی جماعت ابھی اتنی کمزور تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت جب ہم لوگ انتہائی درد کی حالت میں تھے، جب کہ ہمارا ایسا لیڈ رجس کے متعلق ہمارا یقین اور ایمان تھا کہ اُسے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے ہم سے رُخصت ہو گیا اور جب ہمارے دل اتنے زخمی تھے کہ کسی یتیم کا دل بھی اتنا زخمی نہیں ہوتا اُس وقت لاہور میں مخالفوں نے ایک جنازہ