انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxvii
انوار العلوم جلد کا تعارف کتب وہ شیرنی کی طرح لپک کر کھڑی ہو جاتیں اور بھول جاتیں اپنے آپ کو ، بھول جاتیں کھانے پینے کو ، بھول جاتیں اپنے بچوں کو بلکہ بھول جاتی تھیں مجھ کو بھی اور صرف انہیں وہ کام ہی یا درہ جاتا تھا اور اس کے بعد جب کام ختم ہو جاتا تو وہ ہوتیں یا گرم پانی کی بوتلیں جن میں لپٹی ہوئی وہ اس طرح اپنے درد کرنے والے جسم اور متورم پیٹ کو چاروں طرف سے ڈھانپے ہوئے لیٹ جاتیں کہ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ یہ عورت ابھی کوئی بڑا آپریشن کروا کر ہسپتال سے آئی ہے۔اور وہ کام ان کے بیمار جسم کے لئے واقعہ میں بڑا آپریشن ہوتا تھا“۔(۱۷) خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں مجلس خدام الاحمدیہ کے چھٹے سالانہ اجتماع کے موقع پر مؤرخہ ۱۵ اکتو بر ۱۹۴۴ء کو حضرت مصلح موعود نے یہ تقریر ارشاد فرمائی جس میں حضور نے خدام کو بہت قیمتی اور زریں نصائح فرمائیں۔خاص طور پر درج ذیل دو باتوں کو ہمیشہ مد نظر رکھنے کی ہدایت فرمائی۔آپ فرماتے ہیں:۔قوم کی ترقی کے لئے بنیادی طور پر یہ امر نہایت ضروری ہے کہ اُس کا ہر فرد ان دو فقروں کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہو کہ ہم نے کیا کہنا ہے، جس کے اندر ہم نے کیا کرنا ہے“ بھی شامل ہے اور دوسرے یہ کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔جب یہ دونوں باتیں حل ہو جائیں اور پھر جو کچھ ہم نے کہنا ہو وہ اپنے اندر اہمیت بھی رکھتا ہو تو ہماری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔نیز اس تقریر میں حضور نے دین کی واقفیت کیلئے اوّل قرآن کریم کا ترجمہ ، دوم حدیث اور سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کو ضروری قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد اور خدام کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض بڑی پُر حکمت، مؤثر اور قیمتی نصائح ارشاد فرمائیں۔خدام کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے یہ خطاب بہت ہی قیمتی اور پرتاثیر ہے۔