انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxvi

انوار العلوم جلد کا ۱۹ تعارف کتب (۱۶) میری مریم حضرت اُمّ طاہر سیده مریم بیگم صاحبه مورخه ۵ / مارچ ۱۹۴۴ء کو گنگا رام ہسپتال لاہور میں کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔آپ کی وفات اگر چہ پوری جماعت کیلئے ایک دردناک المیہ کی حیثیت رکھتی تھی مگر طبعی طور پر اس کا سب سے زیادہ صدمہ خود حضرت سید نا مصلح موعود کو پہنچا لیکن حضور نے اس موقع پر نہ صرف بے مثال صبر و قتل اور رضاء بالقضاء کا نمونہ دکھایا بلکہ پوری جماعت کو صبر کی تلقین فرمائی۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے تقریباً ساڑھے تین ماہ تک حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کی نسبت کچھ تحریر نہ فرمایا۔ازاں بعد ارشاد نبوی اُذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمُ کے پیش نظر ایک مضمون رقم فرمایا جس میں حضور نے بڑی تفصیل سے حضرت سیدہ اُمّم طاہر کے سوانح ، ان کی خصائل و عادات ، ان کے کارنامے اور خدمات دینیہ کا ذکر فرمایا اور آخر پر آپ کی آخری بیماری کے درد ناک حالات و واقعات بیان فرمائے۔حضور اس مضمون میں آپ کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:۔مریم کو احمدیت پر سچا ایمان حاصل تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر قربان تھیں اُن کو قرآن کریم سے محبت تھی اور اس کی تلاوت نہایت خوش الحانی سے کرتی تھیں۔انہوں نے قرآن کریم ایک حافظ سے پڑھا تھا اس لئے ط ، ق خوب بلکہ ضرورت سے زیادہ زور سے ادا کرتی تھیں۔مریم ایک بہا در دل کی عورت تھیں۔جب کوئی نازک موقع آتا میں یقین کے ساتھ ان پر اعتبار کر سکتا تھا۔ان کی نسوانی کمزوری اُس وقت دب جاتی، چہرہ پر استقلال اور عزم کے آثار پائے جاتے اور دیکھنے والا کہہ سکتا تھا کہ اب موت یا کامیابی کے سوا اس عورت کے سامنے کوئی تیسری چیز نہیں ہے۔یہ مر جائے گی مگر کام سے پیچھے نہ ہٹے گی۔ضرورت کے وقت راتوں اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔انہیں صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ کا کام ہے یا سلسلہ کے لئے کوئی خطرہ یا بد نامی ہے اور