انوارالعلوم (جلد 17) — Page 228
انوار العلوم جلد کا ۲۲۸ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اب دیکھو ایک قوم کا لیڈ ر احمدی ہو گیا مگر ہمیں اس کے احمدی ہونے کا کوئی علم نہ تھا اور نہ ہمارے اختیار میں تھا کہ ہم اُسے احمدی بنا سکتے۔خدا نے خود اُس کا دل کھولا اور اُسے احمدیت کا شیدا بنا دیا۔اسی طرح ترکی پارلیمنٹ کا ایک ممبر ذکر کرتا ہے کہ میں ایک دفعہ چین میں گیا اور وہاں میں نے چین کے ایک شہر کا فٹن میں ایک مسجد کے سامنے چندلوگوں کو جھگڑتے دیکھا۔میں نے دریافت کیا کہ وہ کیوں جھگڑ رہے ہیں؟ تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت ہے جو ہندوستان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ہندوستان کے ایک شہر میں خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح اور مہدی کو بھیج دیا ہے اور ہم اُس کو ماننے والے ہیں۔یہ جماعت دوسرے مسلمانوں سے جامع مسجد کے متعلق جھگڑ رہی تھی۔احمد یہ جماعت کے افراد کہتے تھے کہ یہ مسجد ہماری ہے اور دوسرے مسلمان کہتے تھے کہ یہ مسجد ہماری ہے۔اب دیکھو ہمیں پتہ بھی نہیں کہ وہاں احمد یہ جماعت قائم ہے مگر ترکی پارلیمنٹ کا وہ ممبر اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے کہ نہ صرف وہاں جماعت موجود ہے بلکہ اتنی بڑی جماعت موجود ہے کہ وہ ایک مسجد پر قبضہ کرنے کے لئے دوسرے مسلمانوں سے جھگڑتی اور اپنا حق دوسروں سے فائق سمجھتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے ایسے غیب سے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ ہماری جماعت آپ ہی آپ مختلف ممالک میں پھیلتی جارہی ہے اور وہ پیشگوئی پوری ہورہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی کہ میرے ذریعہ اسلام اور احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔آپ لوگوں نے دیکھ لیا کہ یہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے کے متعلق فرمائی تھی کس شان کے ساتھ پوری ہوئی اور چونکہ اکثر علامات جو اس بیٹے کی بتائی گئی تھیں وہ سالہا سال سے پوری ہو رہی تھیں اس لئے جماعت ہمیشہ مجھے یہ کہا کرتی تھی کہ مصلح موعود آپ ہی ہیں۔مگر میں نے اس امر کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور میں نے کہا جب تک خدا مجھے آپ یہ اطلاع نہ دے کہ میں اس پیشگوئی کا مصداق ہوں اُس وقت تک میرا اپنے آپ کو اس پیشگوئی کا مصداق قرار دے کر دعویٰ کرنا درست نہیں ہو سکتا۔یہی حالت ایک لمبے عرصہ تک رہی یہاں تک کہ اس سال کے شروع میں ۵ اور ۶ جنوری کی درمیانی رات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ بتایا کہ میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی