انوارالعلوم (جلد 17) — Page 220
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۲۰ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں کوئی سلیم الطبع انسان انکار نہیں کر سکتا۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ میں انگلستان میں ہوں اور مجھے کہا گیا ہے کہ کیا آپ ہمارے ملک کو دشمن کے حملہ سے بچا سکتے ہیں۔میں اُن سے کہتا ہوں کہ مجھے جنگی سامانوں اور اپنے کارخانوں کا معائنہ کرنے دو۔اس کے بعد میں اپنی رائے کا اظہار کر سکوں گا۔چنانچہ میں نے انگریزوں کے جنگی سامان کا معائنہ کیا اور میں نے کہا اور تو سب کچھ ٹھیک ہے صرف ہوائی جہاز کم ہیں۔اگر ہوائی جہاز مل جائیں تو انگلستان کو فتح حاصل ہوسکتی ہے۔جب میں نے یہ کہا کہ انگریزوں کے پاس صرف ہوائی جہازوں کی کمی ہے اگر یہ کمی پوری ہو جائے تو انہیں فتح حاصل ہو سکتی ہے تو یکدم رویا کی حالت میں میں نے دیکھا کہ امریکہ سے تار آیا ہے جس میں لکھا ہے: The British Representative from America wishes that the American Government has delivered 2800 aeroplanes to the British Government۔یعنی امریکن گورنمنٹ نے ۲۸ کو ہوائی جہاز بھیجوا دیئے ہیں۔جب یہ تار آتا ہے تو میں نے کہا اب میں انگلستان کی حفاظت کا کام آسانی سے سرانجام دے سکوں گا۔یہ رؤیا مجھے ستمبر ۱۹۴۰ ء میں آئی۔دوسرے تیسرے دن چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب قادیان آئے اور میں نے اُن سے اس رؤیا کا ذکر کیا انہوں نے کئی انگریز حکام کو اس رویا کی خبر دے دی۔یہاں تک سر کلو جو کہ اُس وقت ریلوے ممبر تھے اور بعد میں آسام کے گورنر مقرر ہوئے اُن سے بھی اِس کا ذکر کر دیا۔اسی طرح سر راما سوامی مدلیار اور دوسرے معزز لوگوں سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کہہ دیا کہ امام جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ حکومت امریکہ ۲۸ سو ہوائی جہاز برطانیہ کی مدد کیلئے بھجوائے گی۔دیکھو! قیاس سے انسان یہ تو کہ سکتا ہے کہ امریکہ انگلستان کی مدد کرے گا۔قیاس سے انسان یہ بھی کہہ سکتا ہے شاید ا مریکہ ہوائی جہاز بھجوا دے مگر مسٹر چرچل بھی قیاس سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ امریکہ ۲۸ سو ہوائی جہاز بھجوائے گا اور نہ دنیا کا کوئی انسان محض عقل سے کام لے کر یہ تعداد معین کر سکتا تھا۔مگر اس رؤیا کے تیسرے مہینے ہی میں ایک مسجد میں بیٹھا تھا اور دوستوں سے باتیں کر رہا تھا کہ ایک شخص دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا آپ کے کمرے کا دروازہ بند ہے اور اندر ٹیلیفون کی گھنٹی بج رہی ہے معلوم ہوتا ہے