انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxv
انوار العلوم جلد کا ۱۸ تعارف کتب ”جب تک ہم یہی نمونہ نہیں دکھاتے جو غزوہ حنین کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے جواب میں صحابہ کرام نے دکھایا ، جب تک روحانی طور پر اس نظارہ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے یہی آواز ہماری روح سے نہیں نکلتی کہ لَبَّيْكَ يَارَسُولَ اللَّهِ لبیک ! ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنے ایمان کا کوئی ثبوت پیش کیا ہے“۔(۱۵) خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ تقریر دلپذ یر ئؤ رخہ ۲۵ جون ۱۹۴۴ء کو بعد نماز عصر ایک تقریب کے موقع پر قادیان میں ارشاد فرمائی جو مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۶۰ء کو پہلی دفعہ روز نامہ الفضل میں شائع ہوئی۔اس تقریر میں حضور نے انبیاء علیہم السلام کی تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ نقطہ بیان فرمایا کہ تمام انبیاء اپنی دینی ڈیوٹی سرانجام دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر خدا تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے قائم چلی آ رہی ہے۔ہر شخص جو اُس سے تعلق پیدا کر لیتا ہے وہ ہمیشہ اپنی جڑیں اُس زمین میں پائے گا جو خدا کی رحمت کے پانی سے سیراب ہوتی ہیں کیونکہ اس تعلق کیلئے موت نہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی کو دائی زندگی بنا ئیں تو اس کیلئے اس زمانہ کے مامور اور نبی اللہ کے ذریعہ قائم کردہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم رکھنے کا اب یہی ایک ذریعہ ہے۔اس لئے خلافت احمدیہ کو قائم رکھنا اور اس کے ساتھ وابستگی رکھنا ہمارا فرض ہے اور اس پر ہماری روحانی زندگی کا انحصار ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔”اب یہ ہماری جماعت کا کام ہے کہ وہ اس غفلت اور کوتا ہی کا ازالہ کرے اور خلافت احمدیہ کو ایسی مضبوطی سے قائم رکھے کہ قیامت تک کوئی دشمن اس میں رخنہ اندازی کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جماعت اپنی روحانیت اور اتحاد اور تنظیم کی برکت سے ساری دنیا کو اسلام کی آغوش میں لے آئے۔